بھارت نمک حلالی نہیں کرتا

تحریر: سلیمان شہباز

0

کوہستان نمک کھیوڑہ شہر جہاں پر دیگر معدنیات کے ساتھ ساتھ قدرت کا بہترین تحفہ کان نمک جوکہ پوری دنیا کی دوسری بڑی کان کی وجہ سے دنیا میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے کھانے کے نمک کے علاوہ نمک سے تیار ہونے والے ماڈل بھی ضلع جہلم کے دوسرے بڑے شہر کی پہچان کا باعث بنتے ہیں کیونکہ یورپ میں جدید ریسرچ کے مطابق ان ماڈلوں سے جو شعا عیں خارج ہوتی ہیں وہ سانس کی بیماریوں کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

کان نمک کھیوڑہ کے نمک کی کوالٹی انتہائی اعلیٰ قسم کی ہے اور اگرجدید ٹیکنا لوجی سے نمک کی مائینگ کی جائے تو میری رائے کے مطابق ملک میں زر مبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے اور ملک میں ہر طرف خوشحالی کا دور ہو گا لیکن آج تک کسی حکومت نے اس اہم قومی سرمایہ پر توجہ نہ دی ہے ۔ اور نمک کی مائن کے بنیادی اصول جوکہ نمک کی نکاسی کے لیے بنائے گئے تھے روم اینڈ پیلر تاکہ مائن محفوظ رہے دھجیاں اڑا دی گئیں ہیں اور مائن کو موت کے کنواں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

کچھ سال پہلے دنیا میں کان نمک کی پذیرائی کے لیے کھیوڑہ میں سالٹ راک فیسٹیول کے نام سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جو کہ کچھ دن جاری رہا جس میں مختلف ممالک کے سفیروں نے بھی شرکت کی تھی جس کا کوئی موثر فائدہ نہیں ہوا ۔ پی ایم ڈی سی ایک کارپوریشن ادارہ ہے جو اپنے منافع میں سے 35فیصد حکومت پاکستان کو دیتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جو کہ حکومت کو اب تک 785کروڑ روپے دے چکے ہیں پی ایم ڈی سی (پا کستان منرل ڈ یو لپمنٹ کارپوریشن) کے مطابق بھی کان نمک کا بھارت کو نمک کی سپلائی کا کوئی معاہدہ موجود نہ ہے بھارت کو پاکستانی نمک پرائیویٹ سیکٹر فراہم کرتا ہے ہم نہیں بھارت پرائیویٹ سیکٹر سے 4.80ps فی کلو لے کر 80روپے فی کلو فروخت کرتا ہے اور بیرون ملک پاکستانی نمک اپنا لیبل لگا کر ڈالروں کی صورت میں زرمبادلہ کماتا ہے۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق بھارت پنجاب امرت سر میں پاکستانی نمک کی بہت بڑی منڈی جس میں ہزراوں دکانیں ہیں جو کے درجنوں یورپ ممالک کو پاکستانی نمک پر اپنا لیبل لگا کر پوری دنیا میں بھاری داموں فروخت کر رہے ہیں سندھ طاس معاہدے میں بھارت کے ساتھ 5دریاؤں کے بارے میں تفصیلی ذکر موجود ہے جبکہ نمک کے بارے میں نہیں اگر حکومت نمک انڈسٹری کی طرف خصوصی توجہ دے اور مقامی کاریگروں اور نمک کا کام کرنے والوں کو خصوصی سہولیات فراہم کریں امپورٹ ڈیوٹی کم سے کم کریں نمک کی صنعت کو آسان قرضہ جات فراہم کرے اور نمک کا کام کرنے والوں کو یورپ تک نمک ایکسپورٹ کرنے میں مدد فراہم کریں تو ہمارا ملک توقع سے زیادہ زرمبادلہ کما سکتا ہے۔

کان نمک کھیوڑہ سے 4لاکھ ٹن سالانہ اعلیٰ کوالٹی کا نمک نکالاجارہا ہے جبکہ اگلے سال تک یہی پیداوار 5لاکھ ٹن تک سالانہ پہنچ جائیگا اعلیٰ کوالٹی اور قدرتی غذائیت سے بھر پور ہونے کی وجہ ہے کھیوڑہ کان سے نمک نکال کے ملک بھر کے علاوہ بہت سے ممالک کو بھی بھیجا جاتا ہے جس میں سب سے زیادہ نمک مٹی کے بھاؤہمسایہ ملک بھارت خریدتا ہے آج کل سوشل میڈیا پر گلا بی نمک بچاؤ مہم زور و شور سے جاری ہے بے شک بھارت ہمارے ملک کا نمک کھاتاہے لیکن نمک حلالی نہیں کرتا کیا۔

وجہ ہے کہ بھارت پاکستان سے کوڑیوں کے بھاؤ نمک خرید کر دنیا بھر میں نمک سپلائی کرتا ہے وہ بھی اپنی کمپنیوں کے نام سے بھارت کے ٹیگ لگا کر جو کہ ہمارے ملک کے ساتھ ساتھ غریب کان کنوں اور مقامی ڈیلرز کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کے سند ھ طاس معاہدے میں طے پایا تھا کے بھارت سے آنے والا پانی جو پاکستان کے دریاؤں میں آتا ہے بند نہیں کرے گا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی انتہا یہ ہے کہ وہ جب چاہیں پانی روک لیتے ہیں جب چاہیں پانی چھوڑ دیتے ہیں جس کا نقصان ہمارے ملک کو خوشک سالی اور سیلاب کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔

بھارت کب تک آبی جا رحیت کرتا رہے گا کبھی پاکستان کو ٹماٹر کی فراہمی کو روک کر بلیک میل کرتا ہے کبھی پانی پر لیکن کسی بھی حکومت نے کوئی موثر اقدام نہیں کیا اور بھارت ہمیشہ سے احمقانہ حرکتیں کرتا آرہا ہے ہمارا نمک کھا کر ہمیں ہی آنکھیں دیکھاتا ہے حالیہ دنوں میں بھارت نے دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا ہے جس کے باعث نچلے درجے کا سیلاب بھی آچکا ہے اور یہ بڑھ بھی سکتا ہے ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان متعدد بار اس بات کو دھراتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے ایک اہم اور کثیر تعداد کی نعمت ہمارے ملک پاکستان کھیوڑہ شہر کا نمک بھی ہے۔

اگر بھارت ہم سے نمک خرید کر دوسرے ممالک کو مہنگے داموں فروخت کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کھیوڑہ کے مزدور انتہائی کم اُجرت کے اوز کان نمک سے بغیر مشینری کے ڈرلنگ کے ذریعے اپنی جانوں پر کھیل کے یہ نمک بھارت کے لیے نہیں نکالتے کان سے نکلنے والا نمک کھیوڑہ نمک منڈی میں لایا جاتا ہے جسکو مقامی ڈیلر خرید کر دوسرے شہروں میں بھجتے ہیں جو کہ بڑے شہروں میں جانے کے بعد بھارت اور ایشیا کے ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔

پاکستان سے نمک کے ماڈلوں کے علاوہ کھانے کا نمک بہت کم یورپ ممالک میں بھیجا جاتا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے اگر بھارت ہم سے مٹی کے بھاؤ نمک خرید کر یورپ اور دیگر ممالک کو فروخت کرکے زرمبادلہ بہتر کر سکتا ہے تو ہمارا ملک کیوں نہیں نمک ہمارا اس کو نکالنے والے مزدور ہمارے نمک کے ماڈل بنانے والے ہمارے تو پھر منافع بھی ہمارے ملک اور ہمارے لوگوں کو ملنا چاہیے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان ، وزیر معد نیات ،وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سمیت وزارت تجارت کو اس اہم بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ کھیوڑہ شہر کی کان نمک سے نکلنا والا نمک براہ راست یورپ اور دیگر ممالک کو اچھی قیمت پر فروخت کیا جائے جس سے ملک کے ساتھ ساتھ کھیوڑہ شہر بھی ترقی کرے گا اور سالانہ پانچ لاکھ سے زائد سیاح جو کان نمک کی سیر کے لیے آتے ہیں اچھے ماحول کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات سے بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.