دینہ

پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام عدم توجہی کا شکار، بڑے شہروں کیلئے کوئی اسٹاپ یا گاڑیاں میسر نہیں

دینہ: تحصیل میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ،لوکل اسٹیشن کی گاڑیاں موجود بڑے شہروں کے لیے کوئی اسٹاپ یا گاڑیاں میسر نہیں عوام کو سفر کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ،بس اسٹینڈ میں صرف لوکل بسیں موجود ہوتی ہیں ،صفائی ،پینے کا صاف پانی،مسافر خانہ جیسی سہو لیات سے محروم ،کرایہ جات کی کوئی جانچ پڑتال کا نظام وضع نہیں جس کی جو مرضی آئے وہ وصول کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دینہ شہر کو تحصیل کا درجہ ملنے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہے ،تحصیل دینہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا انتہائی ابتر نظام ہے ،بس اسٹینڈ ویرانی کا منظر پیش کرتا ہے جہاں سے صرف لوکل ٹرانسپوٹ چلتی ہے جو کہ سوہاوہ ،ڈومیلی ،میرپور اور منگلا تک جاتی ہیں ،بڑے شہروں کو جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی خاص نظام موجود نہیں۔

لوکل بسوں پر بھی اتنا رش ہوتا ہے کہ عوام کو بسوں کی چھتوں پر بیٹھ کر جانا پڑتا ہے ،بس اسٹینڈ میں صفائی کا انتہائی ناقص انتظام ہے ،مسافروں کے لیے پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ،بڑے شہروں کو جانے والی ٹرانسپورٹ کے لئے عوام کو جی ٹی روڈ پر کھڑے ہو کر بڑی ذلالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر کسی پبلک بس میں جگہ ہو تو وہ بٹھا لیتے ہیں ورنہ اکثر بسیں تو دینہ میں اسٹاپ ہی نہیں کرتی ۔

کرایوں کا من مانا رواج ہے ،انتظامیہ کی طرف سے کرایوں کے چیک اینڈ بیلنس کا کائی نظام موجود نہیں ہے ،سواریوں کو اکثر اوقات کھڑے کو کر سفرکرنا پڑتا ہے ،لڑائی جھگڑے بحث و تکرار روز کا معمول ہے ،دینہ کی عوام کو یہاں سے لاہور اور گجرانوالہ جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے جہلم جانا پڑتا ہے۔

عوام الناس نے ڈپٹی کمشنر جہلم اقبال حسین خان اور اسسٹنٹ کمشنر دینہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل دینہ کی عوام کے پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button