پڑی درویزہ

سالانہ امتحان منعقد نہیں ہوا اس لئے امتحانی بورڈ ز وصول کردہ امتحانی فیس واپس کریں۔ طلباء و طالبات

پڑی درویزہ: سالانہ امتحان منعقد نہیں ہوا اس لئے امتحانی بورڈ ز وصول کردہ امتحانی فیس واپس کریں ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے طویل لاک ڈاؤن کے دوران طلباء و طالبات کے ساتھ پرائیویٹ تعلیمی ادارے مکمل طور منقطع رہے ، آن لائن کلاسزتک نہ ہوئیں، لاک ڈاؤن عرصہ کی فیس کا مطالبہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔پرائیویٹ کالجز انتظامیہ کو ہر گزکوئی فیس وصول نہ کرنے کا پابند کیا جائے ۔ وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم سے پرائیویٹ کالجوں کے طلباء و طالبات اور ان کے والدین کا مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق تعلیمی سال 2019-20ء کے لئے پورے پاکستان کی طرح صوبہ پنجاب کے نو تعلیمی بورڈوں نے بھی سرکاری کے ساتھ پرائیویٹ کالجوں کی انتظامیہ نے زیر تعلیم طلباء و طالبات سے بھاری امتحانی فیسیں وصول کیں اور تمام بورڈ ز کو ارسال کی گئیں ۔ بعد میں مہلک کورونا وائرس وبا کی وجہ سے ملک بھر میں طویل عرصہ کے لئے لاک ڈاؤن کر دیا گیا جس کی زد میں دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح اعلیٰ تعلیم کا شعبہ بھی آیا ۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے سالانہ امتحانات منعقد نہ ہو سکے او ر نہ ہی پرائیویٹ کالجوں نے اپنے طلباء و طالبات کے لئے آن لائن کلاسز کا کوئی خاطر خواہ انتظام کیا۔ اب یہ پرائیوٹ تعلیمی ادارے کورونا وائرس ریلیف کے طور پر کامیاب طلباء و طالبات سے نتیجہ کارڈ کی اور لاک ڈاؤن عرصہ کی فیسیں بھی طلب کر رہے ہیں جو کہ ان محنت کش والدین کے مجبور بچوں کے ساتھ ایک بڑی زیادتی ہے ۔

طلباء و طالبات کے والدین اور خود طلباء و طالبات کی اکثریت نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود او ر صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم راجہ یاسر ہمایوں سرفراز سے مشترکہ طور پر مذکورہ زیادتی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تمام بورڈ ز بشمول راولپنڈی بورڈ انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کی جائیں کہ سابق امتحانات کے لئے وصول کردہ فیسیں فوری طور پر طلباء و طالبات کو واپس کی جائیں نیز پرائیویٹ کالجوں کی انتظامیہ کو لاک ڈاؤن عرصہ کی فیس کے مطالبہ سے ہر گز بازرہنے کے لئے احکامات جاری کئے جائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button