کالم و مضامین

دوست وہ نہیں جو رت جگوں میں ساتھ ہو — تحریر: چوہدری عابد محمود

ایک شخص کا ایک بیٹا تھا،روز رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا کہ بیٹا کہاں تھے.؟ تو جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا. ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج ہم آپ کے دوست سے ملنا چاہتے ہیں. بیٹے نے فوراً کہا اباجی اس وقت؟ ابھی رات کے دوبجے ہیں کل چلتے ہیں. نہیں ابھی چلتے ہیں. آپ کے دوست کا تو پتہ چلے۔باپ نے ابھی پہ زور دیتے ہوئے کہا. جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا. بالآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے جو اس کے دوست کا باپ تھا آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے کہا کہ اپنے دوست سے ملنے آیا ہے. اس وقت، مگروہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا. چاچا آپ اس کو جگاؤ مجھے اس سے ضروری کام ہے، مگر بہت دیر گزرنے کے بعد بھی یہی جواب آیا کہ صبح کو آجانا. ابھی سونے دو، اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا حوالہ دیا مگر آنا تو درکنار دیکھنا اور جھانکنا بھی گوارا نہ کیا. باپ نے بیٹے سے کہا کہ چلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں.جس کا نام خیر دین ہے.دور سفر کرتے اذانوں سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور خیردین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر جواب نہ ملا ، بالآخر اس نے زور سے اپنا نام بتایا کہ میں اللہ دین، مگر پھر بھی دروازہ ساکت اور کوئی حرکت نہیں. اب تو بیٹے کے چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی. لیکن اسی لمحے لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دی، اور دروازے کی زنجیر اور کنڈی کھولنے کی آواز آئی، ایک بوڑھا شخص برآمد ہوا جس نے لپٹ کر اپنے دوست کو گلے لگایا اور بولا کہ میرے دوست، بہت معذرت، مجھے دیر اس لیے ہوئی کہ جب تم نے 27 سال بعد میرا دروازہ رات گئے کھٹکھٹایا تو مجھے لگا کہ کسی مصیبت میں ہو، اس لیے جمع شدہ پیسے نکالے کہ شاید پیسوں کی ضرورت ہے، پھر بیٹے کو اٹھایا کہ شاید بندے کی ضرورت ہے، پھر سوچا شاید فیصلے کیلئے پگ کی ضرورت ہو تو اسے بھی لایا ہوں. اب سب کچھ سامنے ہے، پہلے بتاؤ کہ کس چیز کی ضرورت ہے؟ یہ سن کر بیٹے کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ابا جی کتنا سمجھاتے تھے کہ بیٹا دوست وہ نہیں ہوتا جو رت جگوں میں ساتھ ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک آواز پر حق دوستی نبھانے آجائے.آج بھی کئی نوجوان ایسی دوستیوں پہ اپنے والدین کو ناراض کرتے ہیں، باپ کے سامنے اکڑجاتے ہیں. آج آپکو بھی تنہائی میں بیٹھ کے یہ سوچنا چاہیے کیا ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا تو نہیں۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. Well done Ch Abid you have written a best article about importance of youth friendship , please accept my congratulation for this best article. There is an important lesson for our youth of today, Thanks

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button