جہلم

دنیا میں انسانیت کی اصل خدمت صرف اسلامی ادارے ہی کر رہے ہیں۔ حافظ عبدالحمید عامر، حافظ احمد حقیق

جہلم: رابطہ عالم اسلامی سعودی عرب مکتب اسلام آباد نے جامعہ علوم اثریہ جہلم کے تعاون سے حسب سابق سینکڑوں غریب، یتیم ، بیواؤںاورمستحق لوگوں میں عید الاضحی کے موقع پر قربانی کا گوشت تقسیم کیا۔

جامعہ علوم اثریہ جہلم کے رئیس حافظ عبد الحمیدعامراور جامعہ کے مدیر حافظ احمد حقیق نے مستحقین میں گوشت کی تقسیم کے موقع پر رابطہ عالم اسلامی سعودی عرب مکتب اسلام آباد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں انسانیت کی اصل خدمت صرف اسلامی ادارے ہی کر رہے ہیں،کیونکہ وہ انسانیت کی خدمت کو کاروبار کی بجائے عبادت سمجھتے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا ارادہ کیا کہ ان کا ادارہ جامعہ علوم اثریہ جہلم حسب روایت قومی اداروں کی معاونت سے دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے اپنی کاوشوں کو جاری رکھے گاکیونکہ اسلام نے ہمیں عبادت اور اخلاقیات کے ساتھ ساتھ انسانی خدمت کا بھی درس دیا ہے اور حکم صادر فرمایا ہے کہ ہم بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب بنی نوع انسان میں خوشیاں بانٹیں۔

یاد رہے کہ جامعہ علوم اثریہ جہلم دینی تربیت گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک رفاعی ادارے کے طور پر بھی جہلم شہر اور اس کے گرد و نواح و مضافاتی علاقوں میں گذشتہ چار دہائیوں سے خدمت سر انجام دے رہا ہے۔

اس موقع پر جامعہ کے مدیر حافظ احمد حقیق نے واضح کیا کہ ان کا ادارہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی دن رات مصروف عمل ہے اور سینکڑوں یتیموں کی کفالت کے ساتھ ساتھ ہسپتال اور ڈسپنسری چلا رہا ہے اور گاہے بگاہے فری میڈیکل اور فری آئی کیمپوں کا انعقاد کرتا ہے۔

حافظ احمد حقیق نے مزید بتایا کہ رابطہ عالم اسلامی سعودی عرب مکتب اسلام آباد ایک رفاہی تنظیم ہے جو پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے ضرورت مندوں اور محتاجوں کی مدد کیلئے رفاہی کام کرتی ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں اپنے مختلف رفاہی منصوبوں کو جامعہ علوم أثریہ کی وساطت سے عملی جامہ پہنارہی ہے۔

اس موقع پرقربانی کا گوشت حاصل کرنے والوں نے جامعہ أثریہ اور رابطہ عالم اسلامی سعودی عرب مکتب اسلام آباد کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور خصوصاًڈائریکٹر جنرل رابطہ عالم اسلامی، پاکستان آفس اسلام آباد سعادۃ الشیخ سعد مسعود الحارثی حفظہ اللہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر مندوب رابطہ عالم اسلامی جاوید بٹ بھی موجود تھے، تمام حاضرین نے تقسیم کے عمل کو نہایت سراہا اور شفاف قرار دیا۔

حافظ عبدالحمید عامر نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس مغربی پروپیگنڈے کی سخت تردید کی جس کے ذریعے وہ دینی مدارس کا تعلق دہشت گردوں کے نیٹ ورک سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دینی مدارس ہزاروں بے آسرا لوگوں کو جہاں تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں وہیں پر وہ خدمت انسانی کیلئے ایسے افرادکار مہیا کر رہے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا ہی خدمت خلق ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button