سوہاوہاہم خبریں

ڈپٹی کمشنر جہلم کا تحصیل انتظامیہ پر کنٹرول ختم، اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ نے شہریوں کو ذلیل کرنا معمول بنا لیا

سوہاوہ: ڈپٹی کمشنر جہلم کا تحصیل انتظامیہ پر کنٹرول ختم، اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ نے شہریوں کو ذلیل کرنا معمول بنا لیا، ڈپٹی کمشنر جہلم کے علم میں لانے کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے وزیر اعلی پنجاب کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، اپنی تعیناتی کے دوران تاحال سوہاوہ کا دورہ کرنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ نے افسر شاہی قائم کر لی۔

تفصیلات کمطابق اسسٹنٹ کمشنر ماریہ جاوید کا دفتر سے غائب رہنا معمول بن گیا، سائلین ذلیل و خوار ہو گئے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کا دفتر ٹاؤٹ مافیا کی آماجگاہ بن گیا ہے، سارا دن دفتر میں ٹاؤٹ مافیا بیٹھے رہتے ہیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنر پورا دن ریسٹ ہاؤس پر موجود رہتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ڈپٹی کمشنر کا انتظامیہ پر کنٹرول نہ ہونا ہے۔

ڈپٹی کمشنر جہلم راؤ پرویز اختر کی تعیناتی سے اب تک ان کی طرف سے سوہاوہ شہر کا دورہ نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ نے دفتر سے غائب رہنا معمول بنا لیا ہے۔

ایک طرف وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے اوپن ڈور پالیسی کے تحت سائلین کو فوری انصاف کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ نے پنجاب حکومت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، میونسپل کمیٹی میں ٹھیکوں کی مد میں لاکھوں روپے کی کرپشن ہو یا من پسند افراد کو ٹینڈر کی تقسیم ہو، اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ ماریہ جاوید کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔

عوامی حلقوں کی طرف سے وزیر اعلی پنجاب کمشنر راولپنڈی ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحصیل سوہاوہ میں کرپشن سمیت ٹاؤٹ مافیا کے راج اور اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ کا دفتروں سے غائب رہنے کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور کرپٹ آفیسر کا سوہاوہ سے فوری ٹرانسفر کیا جائے۔

یاد رہے کہ اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ کی تعیناتی کے بعد ان کے خاوند کو بھی اسسٹنٹ کمشنر دینہ تعینات کیا گیا جس کے بعد نہ صرف سوہاوہ بلکہ دینہ میں بھی اسسٹنٹ کمشنر کا غائب رہنا معمول بن چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button