جہلم

کسٹم حکام کی ملی بھگت سے سمگلروں کو کھلی چھٹی، جہلم سمگل شدہ الیکٹرونکس اشیاء ، کپڑے اور جوتوں سے بھر گیا

جہلم: کسٹم حکام کی مبینہ ملی بھگت سے سمگلروں کو کھلی چھٹی،جہلم اندرون شہر کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں سمگل شدہ الیکڑونکس اشیاء ، کپڑے اور جوتوں سے بھر گئیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں افغانستان سے ملحقہ علاقوں سے سمگلنگ تیز ہوگئی ہے اور ایک اندازے کے مطابق راولپنڈی ڈویژن کے ضلع جہلم کی مارکیٹوں میں روزانہ لاکھوں کروڑوں روپے مالیت کا سامان پہنچایا جارہا ہے جس سے صوبائی دراالخلافہ لاہور سے خریدی گئیں اشیاء کے باعث مقامی دکانداروں کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔
جہلم، دینہ، پنڈدادنخان کی تحصیلوں میں غیرقانونی طور پر آٹو پارٹس، ایل سی ڈیز، ایل ای ڈیز، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، موبائل فونز، غیرملکی کپڑا، چائے کی پتی، سگریٹ ، جوتے، بیگز وغیرہ کی منتقلی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مختلف ایجنٹ علاقہ غیر سے روزانہ کی بنیاد پر یہ سامان راولپنڈی سے چھوٹی گاڑیوں کے زریعے جہلم لاتے ہیں ان سمگلروں کو کبھی کسی نے پکڑنے کی کوشش نہیں کی، چونکہ شادی بیاہ کا سیزن ہونے کی وجہ سے ان دنوں ترجیحی بنیادوں پر الیکٹرونکس کا سامان اور غیرملکی کپڑا لایا جارہا ہے۔
کسٹم کی راولپنڈی سے جہلم تک چیک پوسٹیں نہ ہونے کی وجہ سے سمگلر دیدہ دلیری سے ممنوعہ الیکڑونکس مصنوعات کے علاوہ کپڑا وغیرہ کھلے عام شہر کی مارکیٹوں میں لارہے ہیں۔ حیران کن طور پر روزانہ بیسیوں گاڑیوں میں سمگل شدہ مال ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں پہنچایا جارہا ہے۔ گوجر خان ٹول پلازہ ، سوہاوہ ٹول پلازہ پر اینٹی سمگلنگ سکواڈ کی ٹیمیں نہ ہونے کی وجہ سے بسوں، فلائنگ کوچز، کاروں، ویگنوں کی تلاشی لئے بغیر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کروڑوں روپے کی مالیتی اشیاء کی منتقلی کی جا رہی ہے ۔
مقامی تاجروں اور شہریوں نے اینٹی نارکوٹکس کے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ چائنہ کی دونمبر مصنوعات کی سمگلنگ کو روکنے کے لئے ٹول پلازوں پر روزانہ کی بنیا د پر ٹیموں کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں تاکہ دو نمبر اشیاء کی خریدوفروخت کو روکا جا سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button