پنڈدادنخان

تحصیل پنڈدادنخان میں محکمہ زراعت کے دفاتر میں ملازمین کی بڑی قلت کا سامنا

تحصیل پنڈدادنخان میں نہر کے 100 سالہ مطالبہ پر نہر کی تعمیر کے پہلے فیز کاکام زوروشور سے جاری مگر نہر کی تعمیر کے ساتھ حکومت کی طرف سے محکمہ زراعت (توسیعی)کے زیراہتمام دیئے جانے والے دیگر اربوں روپئے کے منصوبے ضلع جہلم اور خصوصاً تحصیل پنڈدادنخان میں محکمہ زراعت کے دفاتر میں ملازمین کی بڑی قلت کے باعث کٹھائی میں پڑنے کا اندیشہ۔

تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت کی طرف سے ورلڈ بنک کے فنڈز سے تحصیل پنڈدادنخان اور خوشاب کے علاقوں کیلئے جلالپور کینال کے نام سے نہر کا میگا پراجیکٹ شروع کیا ہے جسکاکام تین فیززمیں 2024 تک مکمل ہوگا،نہر کے اس پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے محکمہ زراعت،محکمہ نہراور جنگلات کو بھی کئی پراجیکٹ دے رہی ہے جس سے علاقہ کو بے پناہ فواد حاصل ہوں گے۔

ان پراجیکٹ میں حکومت کی طرف سے اڑھائی ارب روپے کا ایک بڑا پراجیکٹ محکمہ زراعت کودیا جارہا ہے جس سے نہ صرف شعبہ زراعت ترقی کرے گا بلکہ اس منصوبہ سے ملکی زرمبادلے میں اضافے کا بھی امکان ہے،لیکن اس حوالہ سے ضلع جہلم اور خصوصاً تحصیل پنڈدادنخان کے محکمہ زراعت (توسیعی)کے دفاتر میں موجود بے شمار آسامیاں خالی پڑی ہیں۔

صرف پنڈدادنخان، للِہ،جلالپور شریف اور پنن والے کے دفاتر میں زراعت آفیسرز،فیلڈاسسٹنٹ،زراعت انسپکٹر،بیلدار اور دیگر ملازمین کی 30 کے قریب آسامیاں خالی ہیں اسی طرح جہلم،دینہ سوہاوہ،ڈومیلی،داراپور اور سنگھوئی کے دفاتر میں بھی 40 کے قریب آسامیاں خالی ہیں۔

زرعی ماہرین اور اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طورپر ضلع جہلم اور خصوصاً تحصیل پنڈدادنخان میں زراعت (توسیعی) کے دفاتر میں خالی آسامیاں پوری کرنی چاہیں تاکہ نہر کے پراجیکٹ کے ساتھ محکمہ زراعت کے دیگرمنصوبوں کو بھی بروقت جاری اور مکمل کیا جاسکے۔

اس حوالہ سے ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیعی) جہلم شاہد افتخار بخاری اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پنڈدادنخان قاضی عبید سے بھی بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم نے خالی آسامیوں کے بار اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button