جہلم

ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں پابند سلاسل حوالاتی پر جیل عملے کا بہیمانہ تشدد

ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں پابند سلاسل حوالاتی پر جیل عملے کی طرف سے بہیمانہ تشدد، رشوت سمیت دیگر مطالبہ نہ پورا کرنے پر تشدد کیا جاتا ہے،حوالاتی محمد رفیق ولد ملک تاج دین کا پنڈدادنخان پیشی کے موقع پر ایڈیشنل سیشن جج سید عرفان حیدر کی عدالت میں تحریری درخواست۔

تفصیلات کے مطابق پنڈدادنخان کا رہائشی محمد رفیق ولد ملک تاج دین جو 9c کے مقدمےمیں جہلم ڈسٹرکٹ جیل میں پابند سلاسل ہے نے پنڈدادنخان ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیشی کے موقع پر ایک تحریری درخواست کے ذریعے کہا ہے کہ میرے خاندان کے کچھ آدمی قتل ہو چکے ہیں جن کے جرم میں صرف ایک آدمی سزا کا ٹ رہاہے۔

میرے مخالف دہشت گرد اور اثر رسوخ والے ہیں رانا ثناءاللہ سے لیکر عزیر بلوچ تک ان کے تعلق ہیں وہ کچھ بھی کروا سکتے ہیں میرے مخالفین کی ملی بھگت سے جیل کا عملہ آئے روز مجھ سے رقم سمیت مختلف اشیاء کی ڈیمانڈ کرتے ہیں میرے انکار پر بلاوجہ تشدد کرتے ہیں میری کمر پر تشدد کے واضع نشان موجود ہیں میرا سرکاری طور پر میڈیکل کرایا جا ئے۔

محمد رفیق نے میڈیا کو پیشی کے موقع پر یہ بھی بتایا کہ بلا شبہ جیل سپر ٹینڈنٹ اچھے انسان ہیں مگر بیچارے غریب حوالاتیوں کی ان تک رسائی ممکن نہیں جو حوالاتی شکایت کا ارادہ کرے اس سے مزید سختی اور مشقت سمیت ملاقاتیوں کو ذلیل کیا جا تا ہے اس کے علاوہ جیل کے اندر لا قا نو نیت کی انتہا ہے نشہ ہر قسم کا جیل کا عملہ بھاری معاوضے کے عوض خود فراہم کرتا ہے۔

حوالاتی محمد رفیق نے آئی جی جیل خانہ جات صوبائی وزیر جیل خانہ جات سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ڈسٹرکٹ جیل جہلم کا وزٹ کریں اور حوالاتیوں کو درپیش مسائل کے ازالے سمیت جیل کے عملے کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لاتے ہوئے حالات و واقعات سے مجبور قیدیوں کی شکایات کا ازالہ کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button