سوہاوہویڈیوزاہم خبریں

القادر یونیورسٹی نوجوان نسل کے لئے رول ماڈل بنے گی۔ وزیراعظم عمران خان

سوہاوہ: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے، کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، القادر یونیورسٹی نوجوان نسل کیلئے رول ماڈل بنے گی، مغرب میں ہم سے زیادہ اچھائیاں ہیں، وہاں ادارے مضبوط ہیں، ان کے اخلاق بہتر ہیں، وہاں سچائی ہے، علم ہمیں انسان کی کردار سازی اور انسان اور جانور میں فرق بتاتا ہے، ان کے پارلیمان میں ضمیر بیچنے کا تصور بھی نہیں۔

جمعہ کو وزیراعظم عمران خان نے سیرت النبی ﷺ اور صوفیائے کرام کی تعلیمات کے فروغ کے حوالے سے تعمیر کی جانے والی القادر یونیورسٹی کا دورہ کیا اور اس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے القادر یونیورسٹی میں شجر کاری مہم کے تحت پودا لگایا اور یونیورسٹی کے قیام میں پیشرفت کا جائزہ بھی لیا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین بھی ان کے ہمراہ تھے۔


وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی اہمیت ملکی اور معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے، ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے، جس طرح حالیہ سینٹ کا الیکشن ہوا اس میں قوم کے سامنے خریدو فروخت ہوئی اور بکرامنڈی لگی، انصاف کے نظام نے بھی اس پر خاموشی اختیار کئے رکھی، اسی لئے القادر یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ایک ایسی درسگاہ موجود ہو جو انسان اور جانور میں فرق بتائے، انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا رومی نے کہا تھا کہ جب اللہ نے انسان کو پر دیئے ہیں تو پھر چیونٹیوں کی طرح رینگتے کیوں ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، جانور اور انسان کے درمیان پہچان صرف علم کے باعث ہوتی ہے، ہمارا دین انسانی زندگی میں تبدیلی لے کر آ تا ہے۔ انہوں نے مصر کے ایک سکالر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یورپ کے دورہ سے مصر واپس آیا تو اس نے کہا کہ اسے یورپ میں اسلام تو نظر آیا لیکن کوئی مسلمان نظر نہیں آیا جبکہ اس کے مقابلہ میں مصر میں مسلمان تو بہت نظر آتے ہیں لیکن اسلام نظر نہیں آتا۔


وزیراعظم نے کہا کہ القادر یونیورسٹی کا مقصد دین کو ہماری زندگیوں سے مطابقت پیدا کرنا ہے، القادر یونیورسٹی کو مصر کی الازہر یونیورسٹی کی طرز پر اعلیٰ ادارہ بنانا چاہتے ہیں، نوجوان نسل کیلئے القادر یونیورسٹی رول ماڈل بنے گی، اس یونیورسٹی کے قیام میں ہماری سوچ یہ تھی کہ ایسی یونیورسٹی ہو جو دانشور پیدا کرے، ماضی میں جو چوٹی کے مسلمان سائنسدان تھے انہیں سائنس کے ساتھ ساتھ دین کا فہم بھی تھا تاہم اب دین اور سائنس کو الگ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی سوچ پروان چڑھے کہ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت بھی ہو، انسان کی زندگی میں کوئی وقت ایسا آتا ہے کہ وہ درست راستہ کی بجائے غلط راستے پر چل پڑتا ہے۔ میں نے مغرب کو بہت زیادہ دیکھا ہے وہاں ہم سے زیادہ کئی اچھائیاں ہیں، ان کے ادارے مضبوط ہیں، ان کا اخلاق بہت بہتر ہے، ان میں سچائی ہے، ان کی پارلیمان میں ضمیر بیچنے کا تصور بھی موجود نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button