ہائے بجلی

تحریر: محمد امجد بٹ

0

ہم تو محبتوںکا خراج نہ مانگنے والے لوگ ہیں وطن سے محبت کا درس ہمیں اپنی ماوں کی کوکھوں سے ملا ہے ، اس دھرتی کو شادباد رکھنے کیلئے مائیں اپنے جگر گوشوں کو سرحدوں پر یہ کہہ کر رخصت کرتی ہیں ، میرے لخت جگر جاو مادر وطن پر نثار ہو جاو، یا شہید یا غازی، یہ درس جہلم کی مائیں ہی مادر وطن کے سرحدی جیالوں کو دیتی ہیں ، انہی دلیر ماوں کی گود میں پلنے والے جانثاران وطن دھرتی کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

عسکری تاریخ کے حوالے سے جہلم کو فوجیوں کی دھرتی کہا جاتا ہے امن ہو یا میدان جنگ جہلم کے سپوت ہر اول دستے میں شامل ہو تے ہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر بھی اس دھرتی کے ماتھے کا جھومر ہے ۔الغرض ہم جس میدان میں اترتے ہیں جس کے ساتھ اترتے ہیں اللہ کے کرم سے کامیاب و کامران ہوتے ہیںہم نے فوج کو بیٹے دیئے تو جانثار ، ووٹر دئیے تو جانثار، ہم دنیا کو نمک دیتے ہیں تو مزیدار، ہم نے دریائے جہلم کا پانی دیا تو ٹھنڈا او ر شیریں ، منگلا ڈیم کے پانی کا ذخیرہ دیا تووسیع و عریض دیا۔

ہم نے واپڈا کو بل دیے تو بے مثال، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جس سے محبت کرتے ہیں شاید وہ بھی ہم سے محبت کرتے ہیں ، مگر یہ سوچ شاید ہمارا کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہونے والا خواب ہے ، اب تو عمران خان سے اہلیان جہلم کا تعلق اتنا ہی مضبوط ہے جتنی روہتاس قلعے کی فصلیں ، ہم نے عمران خان اور انکی ٹیم کو ایسی محبت دی کہ سیاسی تاریخ کا حصہ بن گئی، ہم نے فرط محبت میں ان سے کچھ مانگا نہیں، انہوں نے کچھ دیا نہیں، بلکہ اب تو جہلم میں کوئی ـ’’دیا ‘‘نہیں ، سب دیے بجھ رہے ہیں ، ہمارے تو شہیدوں نے لہو کے دیے جلا کر جنت میں چراغاں کیا ، مگر خان صاحب کی محبت نے سب دیپ بجھا دئیے۔

واپڈانے کہا کہ پیسے دو بجلی لو، ہم نے سر تسلیم خم کیا ، مزاج یار میں ، ہم نے باقاعدہ بل جمع کروانے کا قاعدہ یاد کر لیا،شاید یہ سبق یاد کرنے سے دیے جلیں گے مگر اس کے باوجودجو دیے ٹمٹما رہے تھے وہ بھی ظلم کی آندھی بجھا رہی ہے ، جہلم کے باسی سورج کے بدلتے تیوروں کو دیکھتے ہوئے اپنے محبوب قائد کو کسی فلمی محبوب کے وعدہ وفا نہ کرنے گایا جانے والا گانا’’ کیا ہوا تیرا وعدہ ‘‘ سنا سنا کر تھک گئے ہیں ، جواب آیا وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا ،اب تو مجبور ہو کر جہلم والے پوچھتے ہیں محبت ہے کیا چیز ہم کو بتاو، یہ کس نے شروع کی ہمیں بھی سناو، جواب آیا ، عاشقی امتحان لیتی ہے ، عاشقوں کی جان لیتی ہے ۔لگتا ہے مزاج یار جارحانہ ہو گیا ، ہم نے سمجھا ہماری محبت کی بدولت ہمیں وسائل کی دولت ملے گی ، بجلی کے بروقت بل جمع کروانے کا قائدہ پڑھ کر باقائدہ بجلی ملے گی ۔مگر

اپنا تو یہ شیوہ ہے اندھیروں میں جلاتے ہیں چراغ
انکی یہ ضد ہے کہ زمانے میں اجا لا نہ ہو

اب محبت کرنے والے جائیں تو جائیں کہاں ؟؟؟؟؟؟؟ چراغ جلائے رکھنے والوں کی امیدوں کے چراغ گل ہورہے ہیں ،،،،،،
عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ،،،،،،،،،،،ہسپتالوں میں مریض قبل الموت کا شکار ہو رہے ہیں ،،،،،،عوام کے منہ نوالوں کو ترس رہے ہیں ،،،،،،،،کاروبار حیات خواب بن رہے ہیں ،،،،،، لوگ مرنے کو جینے پر ترجیح دے رہے ہیں ،،،، بڑے ، بچے، بوڑھے جوان ، مرد وزن، بجلی آئی ؟؟؟؟؟؟؟ بجلی گئی،،،،بجلی نہیں آئی،،،،،،، بجلی آنے والی ہے ،،،،،،،،،بجلی جانے والی ہے ،،،،، بجلی کب گئی تھی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ بجلی کب آئے گی، ،،، بجلی آئے گی ؟؟؟؟؟؟؟بجلی نہیں آئے گی کی گردانیں یاد کرکر کے ذہنی مریض ہوتے جارہے ہیں اپریل کا ماہ شروع ہو ا ہے آغاز ہے بسم اللہ ، انجام خدا جانے ،،اب تو دعائیں بدعاوں میں تبدیل ہو گئی ہیں ۔ کرو مہربانی تم اہل زمین پر، خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر، کچھ تو محبت کا بھر م رکھیں، ورنہ طعنے اغیار کے جیتے جی مار گئے ہیں ، اگر محبت کرنے والوں کے ساتھ یہ ہی سلوک روا رکھا جائے گا تو پھررررررر۔

نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.