دینہ

انسانی معاشرے کا توازن عدل سے قائم ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: کسی بھی معاشرے کا انحصار انصاف پر ہے ،انسانی معاشرے کا توازن عدل سے قائم ہے ،عدل انسانی معاشرے کی بنیاد ہے جب ہم یہاں خرابی کریں گے تو اس سے سار ا معاشرہ خراب ہوگا اور یہی بے انصافی فساد کا سبب بنے گی ، کسی چیز کا عین اُس کے مقام پر ہونا انصاف کہلاتا ہے اورکسی بھی چیز کو اس کے مقام سے ہٹا دینا بے انصافی ہوتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جزا و سزا کا یقین ہی بندے کو جرم کرنے سے روکتا ہے ، جزا و سزا معاشرے میں بڑی بنیاد ی حیثیت رکھتی ہے اگر معاشرے سے جزاو سزا کا تصور ختم ہو جائے تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اُس معاشرے کی حالت کیسی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کی جب بات آتی ہے تو آپ ﷺ کے نافذ کردہ قوانین میں عدل ہر ایک کے لیے تھا اور مساوات کے ساتھ تھا ،آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی بھی چوری میں پائی جائے گی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ سچ بولنا مومن کی نشانی ہے ،یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں جگہ سچ بولنے سے میرے تعلقات خراب ہوجائیں گے فلاں ناراض ہو جائے گا ،یہ طریقہ درست نہیں ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے سچ بولنا ہے سچ مارنا نہیں ہے ،مقصد سچ کو اختیار کرنا ہے اگر ہم سب سچ بولیں گے تو معاشرے میں سچائی آئے گی، سچ کی برکت سے معاشرے سے ،گھروں سے دھوکہ ختم ہو گا برائی ختم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اللہ کریم سے کیا ہوا عہد جو ہم نے کلمہ توحید پڑھ کر کیا تھا اُسے صدقِ دل سے نبھانے کی ضرورت ہے اور اس عہد کو نبھانے کا طریقہ اتباع رسالت ﷺ ہے ،اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button