کالم و مضامین

ذکر جہلم کا ہے، بات ہے ’گلزار‘ کے دینے (دینہ) کی

تحریر: شمائلہ حسین

آپ کسی کے مداح ہوں کئی برسوں سے کسی کو پڑھتے ، سنتے اور دیکھتے آئے ہوں۔ ہمیشہ سوچتے ہوں کہ کاش کبھی ایک بار اس سے ملاقات ہو جائے یا پرسنلی بات ہی ہو جائے۔

کہیں آٹوگراف کا موقع بنے تو سواد آجائے اگر سیلفی بھی ہوجائے تو ساری عمر اس سیلفی کو تمغہ امتیاز کی طرح سینے سے لگا کے یا سوشل میڈیا اور گھر کی دیواروں پر سجا کے پھرتے رہیں۔ لیکن وقت گزر جاتا ہے کہ وقت کی واحد خوبی اس کا گزر جانا ہے۔

کبھی ایسی خواہش، خواب یا آرزو اچانک راہ چلتے چلتے پوری ہوجائے تو یقین ہی نہیں آتا کہ وہ جو مدتوں سے سوچ رہے تھے وہ ممکن ہوگیا ہے۔

کیسے دل زور سے دھڑکنے لگتا ہےجیسے دل اچھل کے کانوں میں آ گیا ہو، آواز لرزنے لگتی ہے۔

لفظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور آپ یقینی بے یقینی کی کیفیت میں جب تک اس لمحے کے ممکن ہونے پر اعتبار لاتے ہیں لمحہ گزر جاتا ہے۔ آپ کا یقیناً اس لمحے، اس فین مومنٹ سے ٹاکرا کبھی نہ کبھی تو ہوا ہی ہوگا۔ نہیں ہوا تو ہوجائے گا۔ بھئی! مجھے تو میرا فین مومنٹ مل گیا۔

ذکر جہلم کا ہے بات ہے، دینے کی۔ جی جی ‘گلزار‘ کے دینے کی۔ وہی گلزار جن کی وجہ سے مجھے جہلم اور دینہ کا نام یاد ہوا۔ زندگی میں جتنی بار بھی جی ٹی روڈ سے گزر ہوا تو دینہ سے گزرتے ہوئے انہیں شدت سے یاد کیا۔

اب کی بار بھی جہلم جانا ہوا۔ جانے کی وجہ جہلم بک کارنر بنا لیکن لاشعور میں کہیں اس شہر سے وہ عقیدت بھی ٹھہری جو گلزار صاحب کی مداحی کا تقاضا تھی۔

‘دینہ‘ میرے لیے زندہ پیر کی بیٹھک جیسا ہے لہذا وہاں سے گزری تو ہمیشہ کی طرح گلزار صاحب کو غائبانہ سلام کیا اور شدت سے خواہش کی کاش گلزار اب بھی یہیں ہوتے تو میں جہلم تک کا سفر کرتی ہی ان سے ملنے کے لیے۔

دماغ تو پھر اپنی فلمیں چلاتا ہے سو بیٹھی سوچتی رہی۔ وہ دن تھا تو اتفاقات کا سو راستے میں بارش نے آ لیا۔ دل خوش ہوکر جھوم اٹھا اور بے ساختہ زبان پر گلزار کا ہی گیت آیا۔

چھوٹی سی کہانی سے
بارشوں کے پانی سے
ساری وادی بھر گئی
نہ جانے کیوں دل بھر گیا
نہ جانے کیوں آنکھ بھر گئی

بس پھر کیا تھا گلزار صاحب کی لکھی ہوئی فلموں اور شاعری کا ذکر تھا اور ہم تھے۔ جہلم پہنچنے تک ’غالب‘ اور ’اجازت”‘کے تمام پسندیدہ ڈائیلاگز دہرائے جا چکے تھے۔

ایک سو سولہ چاند کی راتیں
ایک تمہارے کاندھے کا تل
گیلی مہندی کی خوشبو
جھوٹ موٹ کے وعدے بھی
سب یاد دلاؤں

اور کتنے ہی لمحے نگاہوں سے گزر گئے۔ لیکن دل کو یہ سوچ کر تسلی دی کہ گلزار اردو شاعری کے نمایاں ستاروں میں سے ایک ہیں۔

تیرے بنا زندگی سے کوئی شکوہ تو نہیں
تیرے بنا زندگی بھی لیکن زندگی تو نہیں

’دینہ‘ مجھے ناسٹیلجک کردیتا ہے!

ہمیشہ کی طرح اداسی عود آئی اور میرے بچپن کا گھر میرے دل آنگن میں بچھ گیا۔ عمر رہی ہوگی کوئی آٹھ نو سال اور وہ گھر وہ قصبہ چھوڑ آئے ہم۔

وہ جگہ چھوڑنے کے بعد تین چار سال میں مسلسل بیمار رہی ڈاکٹر کہتے بچی اداس ہے اس لیے ٹھیک نہیں ہو رہی۔ دو سال بعد گانا آتا ہے۔

‘چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں ۔۔۔‘

میری سماعتوں سے ٹکراتا ہے اور مجھے لگتا ہے جیسے میرے لیے گایا گیا ہو۔ گلزار کو نہیں جانتی تھی لیکن ان کے گیت میرے معصوم سے جذبے کا اظہار تھے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ جگجیت سنگھ کے گیت اور ان کا کلام بھانے لگا۔ گلزار کا کلام ہو اور گائیک جگجیت سنگھ تو آپ کتنی دیر فین ہوئے بغیر رہ سکتے ہیں۔

’جس کی آواز میں سلوٹ ہو نگاہوں میں شکن
ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے‘

پرانے گیتوں سے شغف ہوا تو معلوم ہوا کہ ایک شاعر ہیں گلزار جن کا ہر گیت جانے انجانے میں سیدھا دل کے تار چھیڑ جاتا ہے۔

’جینے کے لیے سوچا ہی نہیں درد سنبھالنے ہوں گے
مسکرائیں تو مسکرانے کے قرض اتارنے ہوں گے‘

گلزار کیسے جان لیتے ہو یار کہ ہر دل پہ کب کہاں کیسے گزرتی ہے۔ کلام اور کلام کی تاثیر پر تو مر مٹی تھی مگرتابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ڈراما ’غالب‘۔

کمپیوٹر کا استعمال نیا نیا آیا تھا اور سی ڈی کا زمانہ تھا بس ڈرامے کی سی ڈیز لائیں ہم سہیلیاں اور دیکھنے بیٹھ گئیں۔

پھر تو چن چن کر گلزار کی فلمیں، گیت ، غزلیں اور نظمیں دیکھی جاتیں تو کبھی پڑھی جاتیں۔

اللہ بھلا کرے یو ٹیوب والوں کا کہ گلزار کے درشن یوٹیوب کے ذریعے ان کے تحت اللفظ میں پڑھے کلام کی وجہ سے ہوئے۔ بھئی کیا کرتا پاجامہ پہنے ہوئے نستعلیق آدمی ہیں۔

اردو کا تلفظ اس قدر عمدہ کہ ایسا لگے جیسے دم لگی چائے کی خوشبو۔ میں نے تو امرتا پریتم کا کلام بھی گلزار کے منہ سے سنا۔ پھر اجازت مووی تک رسائی ہوئی تو گن کے ڈیڑھ سو بار وہ مووی دیکھی۔ ایک ایک مکالمہ، گیت، منظر اور فریم دماغ میں محفوظ ہوگئے۔ چلتے پھرتے ’مایا‘ کا کردار بن گئی۔ پھر وقت آیا ’چل چھیاں چھیاں کا۔‘

لڑکیاں بالیاں رقص کا شوق تو رکھتی ہی ہیں اس گانے پر کالج کی ہر تقریب میں پرفارمنس لازمی رکھی جاتی۔ لیکن تب ایک بات سمجھ نہ آتی کہ

‘وہ یار ہے جو خوشبو کی طرح
وہ جس کی زبان اردو کی طرح‘

اس کا کیا مطلب ہوا بھئی! بس پھر یہ بات بھی گلزار کو سن کر سمجھ آئی کہ اردو زبان میں کیا خاص ہے کہ لہجوں کو معطر کرجاتی ہے۔

تو کہاں تھے ہم

ہاں! جہلم پہنچنے والی تھی۔ ساتھ والوں سے کہہ رہی تھی کہ کبھی گلزار صاحب سے ملی تو سیدھا جا کے جپھی ڈال لوں گی۔ ہائے کاش ! ہم گلزار کے پاس ہی جا رہے ہوتے۔

تو ہوا یوں کہ وہاں پہنچ گئی جہلم بک کارنر کے کرتا دھرتا گگن شاہد صاحب نے خوش آمدید کہا۔ حسنین جمال کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن آنے کی

خوشی میں چھوٹی سی سیلیبریشن رکھی گئی، کیک کاٹا گیا۔

کچھ کتابیں خریدیں اور جب واپسی کا وقت قریب آیا تو چند لمحے قبل گگن صاحب کے فون پر ایک کال آئی۔ انہوں نے بتایا کہ گلزار کی کال ہے۔

دل زور سے دھڑکا جیسے کانوں میں آگیا ہو۔ سوچا دعائیں ایسے بھی پوری ہوتی ہیں کیا۔ گگن نے بات کر کے حسنین جمال کو فون تھما دیا اور حسنین نے بات کر کے جب موبائل مجھے پکڑایا تو میں اس دوران زمین اور آسمان کے درمیان معلق ہو چکی تھی۔

فون کی دوسری طرف واقعی گلزار تھے۔ میری آنکھیں خوشی سے بھیگ رہی تھیں اور میں نے چاہا کہ اچھی سی اردو میں بات کروں لیکن میرے منہ سے پنجابی میں صرف اتنا نکلا کہ ”گلزار صاحب میں تہانوں جس دن ملاں گی جپھی پا کے ملنا اے۔‘‘ اور گلزار صاحب کہہ رہے تھے۔ ”ہاں انشاء اللہ ایسے ہی ملیں گے۔‘‘

میری سماعتیں ابھی تک ان الفاظ کو سن رہی ہیں۔ دل ابھی بھی کانوں میں دھڑک رہا ہے اور آنکھیں راہ دیکھ رہی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button