جہلم کی پہچان،جادہ ، دربار سلیمان پارس، ضلع کچہری میں موجود برگد کے درخت

0

جہلم کی پہچان،جادہ ، دربار سلیمان پارس، ضلع کچہری میں موجود برگد کے درخت ضلع بھر کے سب سے بڑے اور قدیم درخت مانے جاتے ہیں جن کی تاریخ سینکڑوں سالوں پر محیط ہے۔ دربار سلیمان پارس میں موجود کچھ عرصہ قبل یہ برگدکا درخت کئی ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا تھا جو حالات اور انسانوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے اب محض محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

دریائے جہلم کے کنارے واقع اس کرشماتی درخت کے اوپر اور نیچے ایک الگ ہی دنیا آباد ہے۔ انواع و اقسام کے پرندوں نے گھونسلے بنارکھے ہیں۔ ان کی نت نئی بولیاں کانوں میں رس گھولتی رہتی ہیں۔ امید نو سے بھری صبح، سایہ دار ٹھنڈی دوپہر میں بہت ہی نرالا پن ہے جبکہ ضلع کچہری میں واقع برگد کے درخت پر رات کو تو بس اس درخت پر الوؤں کی راجدھانی ہوتی ہے کیونکہ توہم پرستی، خوف اور ہیبت کی وجہ سے لوگ رات کو اس کے قریب جانے سے کتراتے ہیں۔اس درخت کی سحر انگیزی کا اندازہ وہی لگاسکتے ہیں جو یہاں رات گزارتے ہیں۔

دربار سلیمان پارس دریا کنارے پایا جانے والا یہ برگد کا درخت ہے جہاں دن بھر چہل پہل اور رونقوں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ اس کی بے پناہ خوبصورتی لوگوں کو دور دراز سے اپنی جانب کھینچ لاتی ہے اور جو لوگ یہاں آجائیں تو وہ گھنی چھاؤں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ لوگ یہاں آتے ہیں اور برگد کی شاخوں پر کھدائی کرکے اپنا نام اور مختلف فقرے لکھ جاتے ہیں جس سے اس درخت کو نقصان پہنچتا ہے۔

برگد کے اس درخت کی خوبصورتی کے چرچے صرف شہر تک ہی محدود نہیں، بلکہ گردونواح سمیت پڑوسی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس کی شہرت کا سن کر یہاں چھاؤں اور دربار پر حاضری دینے کے لئے آتے ہیں ۔ مگر اس قدرتی شاہکار کے تحفظ کیلئے کوئی محکمہ اوقاف کی جانب سے اقدامات نظر نہیں آتے۔ دیگر شہروں سے آنے والے لوگ اس بات پر کڑھتے ہیں کہ غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا اتنا قیمتی ورثہ حکومت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ وہ بوجھل دل سے یہ سوچتے ہیں کہ کاش قدرت ہمیں اس تحفے سے نوازتی اور ہم اسے بے توقیری سے بچالیتے۔

قدرت کا یہ حسین شاہکار جہاں حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے وہیں مقامی بااثر لوگوں نے اسے مفت کا مال سمجھ رکھا ہے۔ مخصوص سوچ کے حامل بعض لوگوں نے اس جگہ پر اپنا تسلط جمایا ہوا ہے جن کا جب جی چاہتا ہے، اس درخت کے تنوں کو کاٹ ڈالتے ہیں جبکہ علاقے کے دیگر لوگ بھی اس معاملہ میں شریک جرم ہیں۔

یہ علاقے کا ہی نہیں بلکہ ضلع جہلم کا قیمتی ورثہ ہے، دیگر شہروں کے لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں اس کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ڈپٹی کمشنر جہلم کو چاہیے کہ سلیمان پارس سے ملحقہ اراضی کو قبضہ مافیا سے آزاد کروا کر دربار سلیمان پارس میں شامل کی جائے اور اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میںدے کر دربار کے احاطے کو وسیع کیا جائے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.