مال مفت دل بے رحم، وزارت امور کشمیر کا دستور نرالہ، کروڑوں کی اراضی کوڑیوں کے بھاؤ فروخت

0

جہلم: مال مفت دل بے رحم،وزارت امور کشمیر کا دستور نرالہ ، کروڑوں کی اراضی کوڑیوں کے بھاؤ فروخت ،کشمیر کالونی کے رہائشی سراپا احتجاج ، وزیر اعظم پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم برلب جی ٹی روڈ پر واقع کشمیر کالونی کے درجنوں رہائشیوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 1973 ء میں جرمن حکومت کے تعاون سے 155 سے 160 پلاٹ کشمیری مہاجرین کو الاٹ کئے گئے، جہاں 2 سو 7 مکان تعمیر کئے گئے جن کا معاوضہ 4 ہزار 5 سو روپے بمعہ ڈویلپمنٹ چارجز بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ جگہ وفاق گورنمنٹ کی مالکیت ہے اور اسوقت طے پایا کہ 77 دکانیں تعمیر کی جائیں جو کہ کشمیری مہاجرین کے بچوں کو الاٹ کی جائیں گی کشمیر کالونی کی کل اراضی 157 کنال ہے اور اس کالونی کو مختلف 3 بلاکس ، اے بلاک، بی بلاک، اور سی بلاک پر مشتمل ہاؤسنگ کالونی قائم کی گئی ، جس کے اندر ڈسپنسری ، سکول ، کمیونٹی سنٹر وغیرہ تعمیر کئے گئے تاکہ غمی خوشی کے موقع پر کشمیری مہاجرین عزت و تکریم کے ساتھ اپنی تقریبات منعقد کر سکیں۔

سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ وزراء امور کشمیر کے ذمہ داران جن میں عبداللہ ، شکیل کیانی نے قانون کو پاؤں تلے روندتے ہوئے کروڑوں مالیتی اراضی کو چند ٹکوں کے عوض ریوڑیوں کی طرح بانٹااور وفاقی حکومت کی جگہ کو محکمہ مال پنجاب تحصیلدار جہلم کے حلقہ پٹواری سے رجسٹریاں کرواکے بااثر افراد کے ہاتھوں غیر قانونی قبضے کروا دیئے۔

سید خلیل حسین کاظمی نے کہا کہ بااثر افراد نے قبضے کرنے کی خاطر درجنوں کھوکھے سجارکھے ہیں جبکہ بعض افراد نے پختہ تعمیرات اور دیواریں قائم کر لی ہیں، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ جگہ کو کشمیر کالونی کے رہائشیوں کے درمیان بذریعہ قرعہ اندازی نیلام کی جانی تھیں جس کمیٹی میں مقامی اور وزارتِ امور کشمیر کے ذمہ داران نے شامل ہونا تھا انہوں نے کہا کہ اس مالی بدعنوانی میں اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں جو بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں۔

کشمیر کالونی کے متاثرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان سمیت ارباب اختیار نوٹس لیکر انصاف کے تقاضے پورے کریں اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے افسران کے خلاف نوٹس لیکر مالی بدعنوانی میں شامل افسران کے خلاف فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں تاکہ آئندہ کوئی شخص وفاقی حکومت کی اراضی کو فروخت نہ کر سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.