نئی روایتیں اور فواد چوہدری — تحریر: چوہدری زاہد حیات

0

دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات میں فواد چوہدری نامی ایک نئے چہرے نے حلقہ این اے سڑسٹھ سے ق لیگ کے ٹکٹ پر حصہ لیا ۔ وہ الیکشن جیت نا سکا لیکن پہلے ہی مقابلے میں اس حلقے سے ناکامی کی وجہ سمجھ گیا ۔ اس با صلاحیت نوجوان کویہ سمجھ ا چکی تھی کہ اس حلقے کے عوام سے وفا کرنے والا کوئی نہیں۔ ہر دفعہ ایک نیا چہرہ سامنے اتا اور انتخابات کے بعد عینک والے جن کی طرح غائب ہو جاتا۔اس نوجوان جس کا نام فواد چوہدری ہے ۔

اس نوجوان نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ اس عوام سے وفا کرنی اس حلقے کے عوام سے وفا کرنی ہے ۔ اس پسماندہ ترین حلقے کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرنا ہے ، وہ ایک نئے انداز سے میدان سیاست میں آیا ۔ دو ہزار سولہ کے ضمنی الیکشن میں اس نے اس حلقے کا انداز سیاست ہی بدل ڈالا ۔ اس نے اس حلقے میں نئی روایت ڈالی ، وہ عام لوگوں تک پہنچا، اس الیکشن میں اس کے سپوٹر عام لوگ تھے کیوں کے اس نے اپنی سیاست کا محور عام آدمی کو بنایا تھا ، اس لئے اس کا ووٹراور سپورٹر عام لوگ تھے ، اس کے مد مقابل وفاقی حکومت صوبائی حکومت اور تیس سال سے ناقابل شکست لوگ تھے ، اور حلقے کے تمام سفید پوش تھے اس کے باوجود یہ نوجوان محض پانچ ہزار ووٹ سے ہارا ۔ یہ اس کی ہار بھی جیت تھی قلعہ میں وہ دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو چکا تھا ۔ بلکہ شگاف ڈال چکا تھا ۔ سیاست کی اس نئی روایت نے اس کا قد بہت بڑھا دیا تھا ۔

جہلم کا باصلاحیت نوجوان فواد چوہدری دو ہزار سولہ میں ہی پاکستان تحریک انصاف کا حصہ بنا ، جہلم میں کمزور تحریک انصاف چوہدری فواد کی شمولیت کے بعد جہلم کی مظبوط ترین پارٹی بن گئی ، صلاحیتوں سے مالا مال یہ نوجوان بہت جلد پاکسان تحریک انصاف جیسی بڑی پارٹی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر گیا ، اور اس کا شمار خان صاحب کے قریبی ساتھیوں میں ہونے لگا ۔پانامہ کیس سامنے آیا تو چوہدری فواد کی کوششوں اورصلاحیتوں کا اعتراف عمران خان نے بھی کیا اور کیس جیتنے کا کریڈٹ چوہدری فواد کو دیا۔

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ہونے کی وجہ سے اور عمران خان کا ترجمان ہونے کے باوجود چوہدری فواد نے اپنے حلقے کے عوام سے رشتہ ٹوٹنے نا دیا،بے پناہ مصروفیت کے باوجود وہ اپنے حلقے کے عوام کے دکھ سکھ میں شریک رہا ۔ چوہدری فواد کا کہنا تھا کہ وہ اس حلقے کے عوام سے سیاسی نہیں ذاتی رشتہ بنائے گا وہ اپنے عمل سے یہ بات ثابت کر چکا تھا اور ثابت کر رہا ہے ۔ دو ہزار اٹھارۃ کے عام انتخابات میں اس کی کامیابی نوشتہ دیوار بن چکی تھی ، اس کی وجہ چوہدری فواد کی محنت عام ادمی کی سیاست اور نئی روایات تھیں جو چوہدری فواد نے ڈالی تھیں۔ اب لوگ جوق در جوق اس کے کارواں کا حصہ بن رہے تھے، وہ ایک ایسے حلقے سے دونشتوں پر کامیاب ہوئے جہاں ان کے مخالفین 35 سال سے ناقابل شکست تھے ۔

بالاشبہ یہ چوہدری فواد کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے ، اس حلقے کے لوگوں نے ہمیشہ سے دیکھا تھا کہ جیتنے کے بعد امیدوار کم ہی نظر آتے تھے ۔ لیکن چوہدری فواد نے یہاں بھی نئی روایتیں ڈالی۔ وہ خود لوگوں کے پاس پہنچے ۔ ان کے لئے شاندار دعوت کی ان کے ساتھ بیٹھ کے کھایا ۔ اور ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور اپنے مخالفین کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ بھی باہر ا کر لوگوں کا شکریہ ادا کریں ۔ بائی دیس ہوں یا پنڈدادن خان چوہدری فواد ہر جگہ اپنے لوگوں تک پہنچے ۔ وہ جیت کے بعد نہیں بدلے وہ وزارت ملنے کے بعد بھی نہیں بدلے ۔ وہ آج بھی عام بندے کو اسی خندہ پشانی سے ملتے ہیں جیسے پہلے روایت شکن چوہدری فواس اب انشااللہ جہلم کی تقدیر بدل کے نئی روایتیں ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.