ضلع جہلم اور گردونواح میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

0

جہلم: ملک بھر کی طرح ضلع جہلم اور گردونواح میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا،جلوسوں،مجالس اوردیگر تقریبات میں علمائے کرام نے سید الشہداء حضرات امام حسین ؑ اور انکے رفقا کو خراج تحسین پیش کیا گیا، سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے،عزادرانِ حسین سینہ کوبی اور زنجیر زنی کرتے رہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم میں یوم عاشور مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا۔ جہلم، دینہ، پنڈدادنخان اور سوہاوہ میں نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؑاور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شبیہہ علم اور تعزیئے بھی نکالے گئے۔ عزادارین حسین زنجیر زنی اور سینہ کوبی کرتے رہے۔ مساجد میں شہدائے کربلا کی یاد میں محافلوں کا انعقاد کیا گیا۔

اس موقع پر ضلعی انتظامیہ، پولیس، مقامی امام بارگاہوں کی اپنی سیکورٹی، خفیہ ادارے، ایجنسیوں نے سیکورٹی کے نہایت سخت اقدامات کیے ہوئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر جہلم محمد سیف انور جپہ، ڈی پی او جہلم کیپٹن (ر) سید حماد عابد، ڈی ایس پی صدر سرکل جہلم، اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ایچ اوز، پولیس سٹی چوکی انچارج ہمراہ نفری،امام بارگاہوں اور مساجد میں اپنے فرائض منصبی اداکرنے کے ساتھ ساتھ انتظامات کا جائزہ لیتے رہے۔

جلوسوں کے داخلی اور خارجی راستوںپر سخت چیکنگ کی گئی، جلوس اپنے مقررہ جگہوں پر اختتام پذیر ہوئے، شام کے بعد امام بارگاہوں میں شام غریباں کی تقریبات منعقد کی گئی، جبکہ علماء کرام اور ذاکرین نے شہادت حسین کے فلسفہ پر روشنی ڈالی،حضرت امام حسین ؑ اور انکے رفقاجانثاروں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیاگیا۔

جلوسوں کے راستوں میں سبیلیں لگائی گئی جبکہ عزاداروں کو زنجیر زنی کرنے کے فوراً بعد طبی امداد کیلئے ریسکیو 1122کا مکمل سٹاف، کیئرٹیکرز ٹیم اور مقامی ڈاکٹرز ودیگر عملہ اپنے فرائض ادا کرتا رہا، چندایک مقامات کو حساس ہونے کی وجہ سے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے، جلوسوں کے مقامات پر سی سی ٹی کیمرے نصب کیے گئے تھے، پارکنگ کا انتظامات مجالس اور ان کے روٹس سے کافی دور تھا،تا کہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔

ادھریوم عاشور کے دن تحصیل دینہ ضلع جہلم کے تاریخی قلعہ روہتاس میں چار سو سالہ قدیمی عزاداری جلوس انعقاد پذیر ہوتا ہے۔ اس جلوس کی اہم بات یہ ہے کہ شبیہ روزہ حضرت عباس علمدار کی تیاری میں اہلسنت اور شیعہ مسلک کے افراد ایک ساتھ حصہ لیتے ہیں اور جلوس میں شرکت بھی ایک ساتھ کرتے ہیں۔

قلعہ روہتاس میں چار جلوس نکالے جاتے ہیں اور جلوس کے آگے اونٹ پر سوار دف بردار نقارا بجاتے ہیں یہ تمام جلوس قلعہ کے مرکزی دروازے پر موجود مزار سید شاہ کمال چشتی پر اختتام پذیر ہوتے ہیں اور اختتامی دعا کرائی جاتی ہے۔

قلعہ روہتاس جہاں خود ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے وہاں یوم آشورہ کی عزاداری چار صدیاں پرانی ہے اور مسلکی بھائی چارہ کی عظیم مثال بھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.