کالم و مضامین

کورنا کے متعلق واضح اور شاندار پالیسی

تحریر:احسان شاکر

گزشتہ طویل عرصے سے ذاتی مصروفیات کے باعث میں اپنے قارئین سے بذریعہ کالم مخاطب نہ ہوسکا۔آج وقت ملا توسوچا کہ اپنے قارئین سے ٹوٹے ہوئے رشتے کو پھر سے بحال کرتے ہوئے کالم تحریر کیا جائے۔چنانچہ آپ سے مخاطب ہوں۔تحریر کا آغاز اپنے ایک نعتیہ شعر سے کروں گا۔جو موجودہ رمضان المبارک کی ایک رات نازل ہوا۔

ہوں ہاتھ روزے کی جالیوں پر،لبوں پہ صلی علیٰ کے نغمے
کچھ اس طرح سے میں نعت لکھوں،کہ سامنے ہوں حضور ﷺ میرے

معزز قارئین! آج کل کا سب سے زیادہ اہم عنوان بلا شبہ کورونا وائرس کی وبا اور اس کے عوامی اور معاشی اثرات ہی ہے۔اس لیے میں بھی اسی عنوان کو ہی موضوع بناؤں گا۔چین سے شروع ہونے والی اس وبا نے جس طرح دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا وہ سب کے سامنے ہے۔

اس وبا کے باعث ایک جانب جہاں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا دوسری جانب دنیا بھر کی معیشت بھی اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔بیرونی ممالک سے آنے والے افراد کے باعث اس وبا نے پاکستان کی جانب بھی رخ کیا۔

اس صورت حال سے نبرد آزما ہونا یقینی طور پر نئی پاکستانی قیادت کے لیے ایک بڑا امتحان تھا لیکن وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے جس ذہانت، دوراندیشی اور سنجیدگی سے اس صورت حال کا مقابلہ کیاوہ ناصرف حیران کن بلکہ قابل تعریف بھی ہے۔انھوں نے پاکستان کے پانچوں صوبائی وزرائے اعلیٰ،ضلعی افسران،پاک فوج،ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملہ،پولیس،اساتذہ اور دیگر سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر بھرپور طریقے سے شکست دی اور ابھی تک اس جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اس وبا کے پہلے دن سے بالکل ایک واضح اور شاندار پالیسی اپنائی ۔اس پالیسی کے دوبڑے مقاصد تھے ۔پہلا اس موزی وبا سے پاکستانی عوام کی زندگیوں کو بچانا اور دوسرالاک ڈاؤن کے باعث پاکستانی معیشت کو منفی اثرات سے بچانا۔ان دونوں مقاصد کے حصول میں وہ ابھی تک کامیاب جارہے ہیں اور ان شاء اللہ مستقبل قریب میں بھی کامیاب رہیں گے۔

اس وبا کے پاکستان میں پہنچنے کی اطلاعات ملتے ہی پاکستان بھرمیں تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کیا گیا کیونکہ تعلیمی اداروں کے باعث یہ وبا تیزی سے پھیل سکتی تھی۔اس کے بعد دنیا کے دیگر ممالک اور ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں توفوری طور پر مکمل لاک ڈاؤن کا اطلاق کردیا گیا لیکن وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اس صورت حال میں اپنی دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک دم سے مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے آہستہ آہستہ اور سلسلہ وار لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔کیونکہ ان کی سوچ تھی کہ یہ وبا صرف ایک یا دو ماہ کے لیے نہیں بلکہ امکانات ہیں کہ ہمیں اس وبا کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک گزارا کرنا ہوگا۔

چنانچہ مرحلہ وار دکانات اور شاپنگ مالز،ٹرانسپورٹ،ریلوے، ائیرلائنز اورسرکاری دفاتر کو بند کیا گیا ۔بلکہ مساجد میں نماز پڑھنے پر بھی مجبوراََپابندی عائد کرنا پڑی۔یوں ہم آہستہ آہستہ ایک مکمل لاک ڈاؤن کی طرف گئے۔لاک ڈاؤن کے دوران متواتر وفاقی کابینہ کے اجلاس جاری رہے،وزیر اعظم روزانہ اپنی ٹیم کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں کے سامنے موجودہ صورت حال اور پالیسی پیش کرتے رہے،آن لائن تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ سے رابطہ رکھا گیااوراٹھارویں آئینی ترمیم کے مطابق تمام صوبوں کو علاقائی فیصلہ جات میں مکمل آزادی دی گئی۔

مختصر وقت میں کورونا کے مریضوں کے لیے مختلف مقامات پر خصوصی قرنطینہ سنٹر قائم کیے گئے ۔ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے لیے مناسب سہولیات کا انتظام کیا گیا۔چین اور دیگر ممالک سے ٹیسٹ کٹس منگوائی گئیں۔

وزیر اعظم پاکستان نے صورت حال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کورونا ریلیف فنڈ کا قیام عمل میں لایا۔جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے خصوصی تعاون کرتے ہوئے لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کے لیے اربوں روپے جمع کرائے۔

پاکستانی عوام کو یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی میں خصوصی رعایت دی گئی،مالک مکانوں کو احکامات جاری کیے گئے کہ کرایہ داروں سے لاک ڈاؤن کے دوران مکانات اور دکانات کا کرایہ وصول نہ کیا جائے۔

اسی لاک ڈاؤن کے دوران وزیر اعظم صاحب نے احساس کفالت پروگرام کا آغاز کیاجس کے تحت لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے افراد نے آن لائن Applyکیا اورپھر محکمہ تعلیم کے اساتذہ اور NADRA کے عملہ اور بینکوں کے تعاو ن سے مستحق افراد کو جانچ پڑتال کے بعد 12000روپے فی کس کے حساب سے مالی امداد کی گئی۔ اب تک لاکھوں خاندان اس مالی امداد سے فائدہ اٹھا چکے ہیں اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔مختلف سماجی تنظیموں کے تعاون سے ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کے لیے راشن کا انتظام کیا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم پاکستان نے احساس راشن پروگرام کے تحت لوگوں کو گھر گھر راشن پہنچانے کا اعلان بھی کیا ۔ان تمام سماجی خدمات کو انجام دینے کے لیے وزیر اعظم صاحب نے پاکستانی نوجوانوں پر مبنی ’’کورونا ٹائیگر فورس ‘‘ قائم کی۔ کورونا ٹائیگر فورس بھی اس وقت پاکستان بھر میں قومی خدمت کے لیے میدان عمل میں ہے۔ ضلع جہلم میں بھی 6ہزار سے زیادہ نوجوان اس فورس کا حصہ بن کرخدمات انجام دے رہے ہیں۔

پاکستانی بچوں کے گھروں پہ بیٹھنے کی وجہ سے تعلیم کے متاثر ہونے کا خدشہ محسوس کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی وزرائے تعلیم نے پاکستان ٹیلی ویژن کے تعاون سے گھر گھر میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا جو کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور کروڑوں طلبا وطالبات اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

پاکستانی عوام نے بھی وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے لاک ڈاؤن میں گھروں پہ رہ کر اس موزی بیماری کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا۔یوں ہم سب نے گزشتہ تین ماہ اس مخصوص صورت حال کا بہادری سے سامنا کیا۔اس کامیاب پالیسی کی وجہ سے پاکستان میں ایک طرف یہ موزی مرض زیادہ تیزی سے نہ پھیلا اور دوسری طرف دیگر ممالک میں اس موزی مرض سے ہونے والی اموات کے مقابلہ میں پاکستان میں ہونے والی اموات کی شرح بھی بہت زیادہ کم رہی ۔جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور وزیر اعظم صاحب کی کامیاب پالیسی کا سلام پیش کرتے ہیں۔

اس پالیسی کے باعث وزیر اعظم صاحب کا پہلا مقصد جو کہ اس موزی مرض سے لوگوں کو بچانا تھا وہ تو پورا ہوا مگر اب مرحلہ تھا دوسرے مقصد کا حصول اور وہ مقصد تھا پاکستانی معیشت کو منفی اثرات سے بچانا۔چنانچہ وزیر اعظم صاحب نے جب دیکھا کہ ہم کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو انھوں نے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کیا۔

رمضان المبارک میں مسجدوں کی روایتی رونق کو بحال کرنے کے لیے صدر پاکستان نے پاکستان بھر سے علمائے کرام اور مشائخ سے مشاورت کی ۔چند SOPsکے ساتھ مسجدوں میں نماز اداکرنے کی اجازت دے دی گئی۔اس کے بعد انجمن تاجران پاکستان کے نمائندوں کے ساتھ کامیاب مذاکرت کے بعد انھیں بھی مختلف SOPsکے ساتھ دکانیں اور شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔اسی طرح ذرائع آمدورفت نے بھی SOPsکے ساتھ کام کا آغاز کردیا ہے۔

یوں ہم آہستہ آہستہ اور مرحلہ وار جس لاک ڈاؤن کی طرف گئے تھے اسی طرح آہستہ آہستہ اور مرحلہ وار اس لاک ڈاؤن سے نکل بھی آئے ہیں۔اس طرح وزیر اعظم صاحب کا دوسرا مقصد جو کہ پاکستانی معیشت کو منفی اثرات سے بچانا تھا وہ بھی الحمد لللہ پورا ہوتا نظر آرہا ہے ۔

اب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف لاک ڈاؤن کے بعدمعمولات زندگی بحال ہورہے ہیں اور دوسری جانب روزانہ ہزاروں افراد کے کورونا ٹیسٹ بھی کیے جارہے ہیں،جن افراد کے ٹیسٹ مثبت آرہے ہیں انھیں مخصوص قرنطینہ سنٹروں میں رکھنے کا انتظام موجود ہے،اب ساری پاکستانی قوم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تمام ضروری SOPs پر عمل درآمد کرتے ہوئے کورونا جیسے موزی مرض کو مکمل شکست دینے میں وزیر اعظم صاحب کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

مندرجہ بالا تمام تحریر کا مرکزی کردار بلاشبہ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان ہیں۔انھوں نے گزشتہ 4ماہ کی شدید مشکل صورت حال میں جس ذہانت،دوراندیشی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ وہ واقعی ایک عظیم رہنما ہیں اور کسی بھی مشکل صورت حال میں ساری پاکستانی قوم کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔ان شاء اللہ جلد پاکستان سے کورونا جیسے موزی مرض کا مکمل خاتمہ ہوگا اور پاکستانی معیشت بھی بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہوگی۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button