بڑی عیدکی آمد اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گداگروں نے بھی بھیک مانگنے کے نرخوں میں اضافہ کر دیا

0

جہلم: شہر میں بڑی عیدکی آمد اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گداگروں نے بھی بھیک مانگنے کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ، سکے کی جگہ کرنسی نوٹ کا مطالبہ کیا جانے لگا ، پولیس گداگری ایکٹ کے نفاذ کے باوجود شہر سے یہ لعنت ختم کرانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے ، شہر اور مضافاتی علاقوں میں بھکاریوں کے جتھے دکھائی دے رہے ہیں۔

شہر کے گنجان آباد علاقے بھکاریوں کی چھاونیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ بھیک مانگنے والوں کے درجنوں سے زائد گروہ اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں متحرک نظر آتے ہیں ،متعددبھکارنوں نے زیادہ بھیک لینے کے لیے معصوم بچے اٹھا رکھے ہوتے ہیں جو گھروں اور دکانوں میں گھس کر قیمتی چیزیں چوری کرنے سے بھی گریز نہیں کرتیں جبکہ بعض جرائم پیشہ عورتوں نے بھی بھکارنوں کا روپ دھار رکھا ہے ۔تمام گداگر شہر کے گلی محلوں میں کالونیوں کی طرح جھگیاں بناکر اکٹھے رہتے ہیں۔

ہر سال عید کے دنوں کے موقع پر بھکاریوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے جو پولیس اور انتظامیہ کی غفلت اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی بھکاریوں کی بہت بڑی تعداد جہلم شہرو گردونواح میں جراثیموں کی طرح پھیل چکی ہے ، عام دنوں میں بھی گلی محلوں سمیت شہر کے چوک چوراہوں میں گداگر بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں بالخصوص عید کے دنوں میں ان بھکاریوں کی تعداد میں کئی گنااضافہ ہو جاتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.