منگلا ڈیم تباہی کے دہانے پر، لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق، انتظامیہ خاموش تماشائی

0

منگلا ڈیم تباہی کے دہانے پر لاکھوں،کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ،انتظامیہ خاموش تماشائی، ٹھیکیداروں کی ٹھیکوں کے نام پرموجیں ،متاثرہ علاقہ مکینوں کا وزیراعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعلی پنجاب،آئی جی پنجاب،ڈی پی او جہلم اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق دینہ کے نواح میں منگلا ڈیم سے چند سو میٹر کے فاصلے پر دریائے جہلم کے مقام منگلا،پنڈوری ، بھوندناں جٹاں، چک دولت سمیت متعدد مقامات پر گزشتہ کئی سالوں سے ہیوی مشینری کے ذریعے ریت،بجری اور پتھر جن کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے روزانہ کی بنیاد پر نکالے جارہے ہیں جو کہ ڈیم کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتے ہیں جس کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

1992 ء کا سیلاب میں اس وقت صرف ڈیم کے دروازے کھولے گئے تھے اورعلاقہ مکینوں کوناقابل تلافی جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا تھا جس کی باقیات آج تک برآمد نہیں ہوسکیں اگردریائے جہلم سے اسی رفتار کے ساتھ پتھر، ریت، بجری نکالی جاتی رہی تو اندیشہ ہے کہ منگلا ڈیم کو کسی بھی وقت بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے جس کا اندازہ لگانا بھی نا ممکن ہے۔

محکمہ معدنیات کی ملی بھگت سے بااثر ٹھیکیداروں نے کریش مشینیں نصب کر رکھی ہیں جو شام ہوتے ہی مشینوں کو چلا کر کروڑوں کے پتھر کو بجری میں تبدیل کر دیتے ہیں اس طرح ڈمپر مالکان روزانہ کی بنیاد پر بجری دوسرے شہروں میں منتقل کر رہے ہیں جبکہ مقامی سطح پر ٹریکٹر ٹرالیوں کے زریعے بجری ، ریت ، پتھر تعمیراتی عمارتوں کے لئے منتقل کیا جا رہاہے ، جس کیوجہ سے دریا جہلم کے کنارے آباد علاقہ مکینوں کو شدید خطرات لاحق ۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ اور محکمہ معدنیات نے کریش مشینیں بند نہ کروائیں تو آنے والے وقتوں میں ڈیم کو ہونے والے نقصانات سے دریائے جہلم کے کنارے قائم آبادیاں تباہ و برباد ہو جائیں گی ۔

شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈیم بناؤ مہم کے تحت نئے ڈیم تو تعمیر کئے جائیں گے لیکن جو پہلے سے تعمیر شدہ ڈیم ہیں ا ن کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب ،چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعلی پنجاب،آئی جی پنجاب،ڈی پی او جہلم اور ڈپٹی کمشنر جہلم نوٹس لیکر منگلا ڈیم کو محفوظ بنانے کے حوالے سے احکامات جاری کریں تاکہ شہریوں کے سروں پر منڈلانے والے خوف کے سائے چھٹ سکیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.