سوہاوہ

میونسپل کمیٹی سوہاوہ اور سوہاوہ کی تاجر برادری میں تصادم کا خطرہ شدت اختیار کرگیا

سوہاوہ: میونسپل کمیٹی سوہاوہ اور سوہاوہ کی تاجر برادری میں تصادم کا خطرہ شدت اختیار کرگیا، سوہاوہ میں کھوکھوں کی نیلامی کے متعلق تاجروں میں شدید غم و غصہ تاجروں کی طرف سے میونسپل کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے حکومتی ہدایت پر ایگریمنٹ، سیکورٹی اور مناسب کرایہ دینے کی آفر کے باوجود اگر انتظامیہ نے تیس تیس سال پرانے کھوکھوں کی نیلامی کر کے دوسرے شہروں سے آئے کاروباری حضرات کو کھوکھے دیے تو پھر احتجاج کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہے گا۔ تاجر برادری

گزشتہ رات سوہاوہ کی تاجر برادری نے متفقہ طور پر انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا فیصلہ کیا جبکہ انتظامیہ کی طرف سے عدم تعاون پر جی ٹی روڈ بلاک کرنے سمیت بھر پور احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب اور ایم پی اے راجہ یاور کمال سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کھوکھوں کی نیلامی کی بجائے تیس تیس سالوں سے ان کھوکھوں میں کاروبار کرنے والوں کو ہر سال کی طرح کرایہ میں مناسب اضافہ کے ساتھ نئے معاہدے اور سیکورٹی لے کر انہی دکانداروں کو کاروبار کرنے دیں ۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ یہ جان لے کہ یہ کھوکھے غریبوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بنائے تھے اور اس وقت غریب اور مستحق لوگوں کو ان کھوکھوں کے مالکانہ حقوق دیے گئے تھے اگر انتظامیہ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کریگی تو پھر انتظامیہ بھی یہ جان لے کہ تاجر برادری اپنے گھروں کے چولہے بھجنے سے بچانے کے لیے آخری حدوں تک جانے کے لیے تیار ہیں اور پھر احتجاج اور جی ٹی روڈ بلاک کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس ہر آپشن موجود ہے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہو گی ۔

یاد رہے کہ میونسپل کمیٹی سوہاوہ آج کھوکھوں کی اوپن نیلامی کر رہی ہے جس میں دوسرے شہروں سے بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بولی میں حصہ لے گی جو کہ تیس تیس سالوں سے موجود دکانداروں سے ان کا روز گار چھننے کے لیے بولی میں ناقابل یقین حد تک اضافہ کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ نیلامی کے قانون میں یہ رعایت موجود ہے کہ نیلامی ہمیشہ خالی دکان یا اراضی کی ہو سکتی ہے اور پہلے سے وہاں کاروبار کرنے والوں کو ترجیح حاصل ہے اور حکومتی کرایہ نامہ دینے کی صورت میں کاروبار کرنے والوں کا پہلے حق بنتا ہے کہ وہ وہاں کاروبار کریں جبکہ انتظامیہ اور تاجر برادری میں نیلامی سے قبل مذاکرات کی ناکامی پر سوہاوہ میں ایک بڑے تصادم کا خطرہ منڈلانے لگا ہے جو خدانخواستہ کسی جانی نقصان کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close