دینہ

ٹوٹی پھوٹی سڑک، درمیان میں ریلوے لائن، ریلوے پھاٹک نہ ہونے سے کئی مریض راستے میں دم توڑ گئے

دینہ: ٹوٹی پھوٹی سڑک، درمیان میں ریلوے لائن، ریلوے پھاٹک نہ ہونے سے کئی مریض راستے میں دم توڑ گئے،گاؤں مہسیاں،کوٹلی،چکوہا،کھڑکا سیداں اور ڈھوک بوکن کے لوگ جانوروں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور، جہلم اپڈیٹس کے دورے کے موقع پر مذکورہ دیہات کے لوگ حکومت وقت کے خلاف پھٹ پڑے۔

تفصیلات کے مطابق 21ویں صدی میں بھی تحصیل دینہ کے کئی دیہات کے باسی جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ان موضعات میں گاؤں مہسیاں، کوٹلی، چکوہا، کھڑکا سیداں اور ڈھوک بوکن بھی شامل ہیں۔

جہلم اپڈیٹس نے خصوصی دعوت پر گزشتہ روز ان موضعات کا تفصیلی دورہ کیا۔ جی روڈ سے ملنے والی ان دیہات کی رابطہ سڑک جو تقریباً 10کلومیٹر ہے،جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ چکی ہے اور سفر کے قابل نہیں رہی ہے۔ جبکہ ’’سونے پہ سہاگہ‘‘یہ کہ سڑک کے درمیان میں ریلوے لائن آتی ہے، جس پر پھاٹک بھی موجود نہیں ہے۔

ریلوے پھاٹک نہ ہونے سے گاڑیاں آگے نہیں جا سکتیں اور ’’آگے کا معاملہ‘‘رکشے سنبھال لیتے ہیں جبکہ موٹر سائیکل سوار اپنے موٹر سائیکل کو اٹھا کر ریلوے لائن عبور کرتے ہیں،جس کی وجہ سے آئے روز قیمتی جانیں ضائع ہوتی رہتی ہیں،جب کہ کئی مریض پھاٹک نہ ہونے سے راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں۔

جہلم اپڈیٹس سے گفتگو کرتے ہوئے معززین علاقہ چوہدری منصور آف مہسیاں، چوہدری واجد اقبال آف مہسیاں، راجہ ضمیر اختر آف کوٹلی، حاجی چوہدری محمد اسلم آف ڈھوک بوکن اور سید الطاف حسین شاہ آف کھڑکا سیداں نے بتایا کہ سڑک کی بربادی اور ریلوے پھاٹک نہ ہونے سے ہمارا علاقہ بہت سے مسائل کا شکار ہے،کوئی بھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی وزیر ریلوے سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے علاقے کے لئے ریلوے پھاٹک کی منظوری دیں،یہ ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے،اسی طرح حلقے کے ایم این اے اور ایم پی اے سے بھی پرزور گزارش ہے کہ وہ ہماری حالت زار پر رحم کرتے ہوئے سڑک کی از سر نوتعمیر کرائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button