جہلم

پنجاب حکومت نے دوران سروس جبری ریٹائرمنٹ کے قوانین متعارف کروا دیئے

جہلم: پنجاب حکومت نے دوران سروس جبری ریٹائرمنٹ کے قوانین متعارف کروا دیئے ،قوانین کے تحت مس کنڈکٹ، گنہگار ثابت ہونے اور خراب اے سی آر پر سرکاری ملازمین کو جبری ریٹائرڈ کیا جاسکے گا۔

محکمہ ریگولیشن کی جانب سے جاری کردہ قوانین کے مطابق نیب یا اینٹی کرپشن میں گنہگار ثابت ہونے، نا پسندیدہ اے سی آر رکھنے والے افسر ان یا ملازمین کو جبری ریٹائر کئے جا سکیں گے۔ پروموشن بورڈ سے دو بارہ سپر سیڈ ہونے، غیر مناسب رویہ رکھنے اور مس کنڈیکٹ کے مرتکب افسران اور ملازمین کو بھی قبل از وقت ریٹائرڈ کیا جا سکے گا۔ تمام محکمے جبری ریٹائرمنٹ کیلئے بورڈ تشکیل دیں گے۔ چھوٹے ملازمین کو جبری ریٹائر کرنے کے کیلئے محکمہ کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی ۔

دوسری جانب وفاقی وزارت خزانہ نے 25 سال سرکاری سروس مکمل کیے بغیر رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پر پابندی عائد کر دی، وزارت خزانہ نے 48 وزارتوں اور ڈویژنز کو سرکلر جاری کردیا، سرکاری قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت خزانہ نے وزارتوں اور ڈویژنز کو آگاہ کیا کہ ان رولز کے پیرا5 کے تحت کوئی بھی سرکاری ملازم 25 سال سروس مکمل کرنے کے بعد ہی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے سکتا ہے۔

وزارت نے سرکاری ملازمین اور وزارتوں کے پرنسپل اکاؤٹنگ افسران (وفاقی سیکرٹریز ) کو آگاہ کیا کہ مستقبل میں25سال کی سروس مکمل کیے بغیر کوئی ملازم اگر رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کی درخواست دے گا تو اسے قبول نہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button