جہلم پھرمسلم لیگ (ن) کا قلعہ بنے گا؟

تحریر: محمد شہباز بٹ

0

ایک وقت تھا جب جہلم کو منی لاڑکانہ کہا جاتا تھا لیکن شائد اپنوں کی قدروقیمت اور سپورٹرز کی پہچان بھلانے پر جہلم کے لوگوں نے منی لاڑکانہ کو پاکستان مسلم لیگ(ن)کے قلعے میں تبدیل کر دیا۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) نے راجہ محمد افضل خان اور نوابزادہ راجہ اقبال مہدی خان کی قیادت میں ایک طویل عرصے تک جہلم کی عوام پر حکمرانی کی،،طویل عرصہ برسر اقتدار رہنے کی وجہ شاید یہ تھی کہ انہیں اپنے اور پرائے کی پہچان تھی۔ ترقیاتی کام بے شک بہت کم ہوئے اور خاص کر تحصیل پنڈدادنخان تو محرومیوں اور عدم توجہ کا شکار رہی،بھرتیاں بے شمار ہوئیں۔

تھانے کچہری کی سیاست میں (ن)لیگی راہنماؤں نے ہمیشہ اپنے ورکرز کا ساتھ دیا، انکے سیاسی ڈیرے بھی عوام کے لیے کھلے رہے،یہاں تک کے مشرف کے دور حکومت میں بھی مسلم لیگ(ن)نے جہلم سے اچھی خاصی کامیابی حاصل کی۔

2008کے الیکشن میں ایک دفعہ پھر ضلع بھر میں شیر کی دھاڑ سنائی دی لیکن ریت کے جھگڑے سے پہلے راجہ افضل فیملی انتشار کا شکار ہوئی، پھر گھرمالہ خاندان اور مسلم لیگ(ن)کی تنظیم سے راجہ محمد افضل کے اختلافات اور فاصلے بڑھنے لگے جو اعلی قیادت تک جا کر ختم ہوئے۔

راجہ محمد افضل خان (ن)لیگ سے باہر ہوئے تو نوابزادہ راجہ اقبال مہدی خان دنیا سے رخصت ہو گئے، ان کی وفات کے بعد بلدیاتی الیکشن میں مسلم لیگ(ن)ٹکٹوں کی تقسیم پر تقسیم ہوئی اور پھر عام انتخابات میں 20سے زائد تنظیمی عہدہ داران نے استعفے دیکر (ن)لیگ کی ضلع جہلم سے شکست پر مہر لگا دی اور پھر ہوا بھی یوں ہی مسلم لیگ(ن)کا ناقابل تسخیر قلعہ پاکستان تحریک انصاف نے فتح کر لیا۔

فواد چوہدری اس حلقہ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر کامیاب ہوئے جہاں آمرانہ دور میں بھی (ن)لیگ کامیاب ہوتی رہی لیکن شاید پی ٹی آئی کو جہلم میں تاریخی کامیابی تاحال ہضم نہیں ہو رہی، نہ بیوروکریسی کی پہچان نہ اپنے پرائے کی، یہ ہی وجہ تھی کہ فواد چوہدری کی صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑنے پر سب سے مضبوط امیدوار گردانے جانے والے شاہنواز سنبھلنے سے پہلے ہی گر گئے۔

پھر آہستہ آہستہ پی ٹی آئی میں اختلافات بڑھنے لگے، وجہ فواد چوہدری کی اندرون اور بیرون ممالک مصروفیات، حلقہ کی عوام سے دوری،اپنے اور پرائے کی پہچان نہ ہونا ہے۔

جہلم کی صورتحال یہ ہے کہ اعلی عہدوں پر فائز چند افیسران خود ساختہ تشہیر تک محدود ہیں، تھانوں اور چوکیوں میں(ن)لیگ کے بھرتی کردہ اور (ن) سابقہ ممبران اسمبلی کے عزیزواقارب تعینات ہیں، (ن) لیگی ورکروں کے تاحال ایسے کام ہورہی ہیں جیسے مسلم لیگ(ن)کی حکومت ہو۔

افسران (ن) لیگی راہنماؤں سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے شہبازشریف وزیر اعلی ہیں،رہی سہی کسر فواد چوہدری کی حلقہ کی عوام سے دور نہ نکال دی ہے،،لوگ گلے شکوے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یونین کونسل کوٹلہ فقیر سے چوہدری ظفر حسین کی مسلم لیگ(ن)میں شمولیت پی ٹی آئی اور خاص کر فواد چوہدری کے لیے لمحہ فکریہ ہے،یہاں مسلم لیگ(ن)کو لوگوں نے مشکل حالات میں بھی نہیں چھوڑا صرف اسوقت چھوڑا جب انکو عزت نہ ملی جب (ن)لیگی راہنماؤں کو انکی اہمیت اور شناخت بھول گئی اور اب یہ ہی صورتحال پی ٹی آئی کی دکھائی دے رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے کچھ دوست کہتے پھر رہے ہیں چوہدری ظفر حسین کے من پسند ٹھیکیدار واں کو ٹھیکے نہ دینے پر وہ پی ٹی آئی چھوڑ گئے، میرے خیال میں چوہدری ظفر کو عزت اور اہمیت نہیں دی گئی وہ کوٹلہ فقیر کے چیئرمین رہے انکے دفتر میں فواد چوہدری کا مرکزی الیکشن آفس تھا،اس یونین کونسل میں انکی وساطت سے کام ہونے چاہیے تھے،میرے خیال میں کوٹلہ فقیر کی طرح متعدد علاقوں میں ان لوگوں کو اہمیت جتنی اہمیت انکو الیکشن مہم میں دی گئی ۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کی سوچ اپنی جگہ لیکن اپنے ووٹرز سپورٹرز کو اہمیت نہیں دیں گے،برطانیہ والے کی دادی کے جنازے میں شرکت اور کریانہ سٹور والے کی اماں کی وفات پر افسوس بھی نہی کریں گے تو ووٹرز،سپورٹرز چوہدری ظفر حسین کی طرح آپ سے بھی دور ہوتے جائیں گے،،حلقہ کی عوام کو ضلعی افسران کے بل بوتے پر چھوڑ دیں گے تو پھر عوام بھی آپکو چھوڑ دے گی۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.