جہلم میں پینے کے پانی کی 80 فیصد لائنیں بوسیدہ ہونے سے ہر چوتھا شہری ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا

0

جہلم: شہر کے اندرون علاقوں میں پینے کے پانی کی 80 فیصد لائنیں بوسیدہ ہونے سے ہر چوتھا شہری ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا، فراہمی آب کی بوسیدہ پائپ لائنوں میں سیوریج اور جوہڑوں کا پانی شامل ہو کر شہریوں کے گھروں میں فراہم کیا جا رہا ہے جس کے استعمال سے خواتین ،بچے ، بوڑھے، جوان موذی امراض میں مبتلا ہوکر سرکاری و نجی ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں اس حوالہ سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے شہریوں نے ایڈ منسٹریٹر میونسپل کمیٹی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر و گردونواح کی بیشتر آبادیوں میں 40 سال قبل بچھائی جانے والی فراہمی آب کی لائنیں انتہائی بوسیدہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ سے ٹو ٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں ،لائینوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے ان میں گندہ گٹروں کا پانی مکس ہو کر شہریوں کے گھرو ں میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔

گٹروں ملا ناقص بدبودار پانی استعمال کرنے سے شہری مختلف موذی امراض میں مبتلا ہوکر سرکاری و نجی ہسپتالوں کا رخ کر نے پر مجبور ہیں ، لیکن حساس نوعیت کے معاملے پر ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

معززین شہر سماجی ، مذہبی ، کارروباری، تنظیموں کے عمائدین نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ بوسیدہ پائپ لائنوں کی جگہ نئی پائپ لائن بچھانے کے احکامات صادر کئے جائیں اور اس حوالے سے غفلت کے مرتکب میونسپل کمیٹی کے شعبہ پبلک ہیلتھ کے افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.