جہلمویڈیوزاہم خبریں

موجودہ حکومت ڈمی ہے، آٹا چینی بحران کی اجازت دینے والے عمران خان ہیں۔ شاہد خاقان عباسی

جہلم: اسلام آباد میں تبدیلی کا کوئی پتہ نہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے لیکن موجود حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے، آٹا چینی بحران کی اجازت دینے والے وزیراعظم، وزیرخزانہ اور وزیراعلی کا نام ہی رپورٹ میں شامل نہیں ہے، راجہ محمد افضل کی پارٹی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، راجہ محمد افضل خان سے دوستی کا رشتہ تھا۔
ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم پاکستان شاہدخاقان عباسی نے جہلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے جہلم میں سابق سینیٹر و ایم این اے راجہ محمدافضل خان کی وفات پر انکے بیٹے راجہ محمد اسد خان سے اظہار تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ راجہ محمد افضل خان میرے والد کے ساتھ 1985ء کی اسمبلی میں تھے، اس کے بعد سے ہمارے ساتھ ہمیشہ اسمبلی میں رہے ہیں۔ راجہ محمد افضل خان ہمارے بزرگ بھی تھے اور دوست بھی تھے، انہوں نے ایک دبنگ طریقے سے سیاست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کے سیاست میں فیصلے ہوتے ہیں، ہماری راجہ محمد افضل سے راہیں جدا ہو گئی تھیں لیکن ان کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم رہا، انہوں نے ہمیشہ اپنے مزاج کے مطابق سیاست کی اور یہی انکی کامیابی تھی،ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے،
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں حکومتی تبدیلی کی افواہوں کا مجھے علم نہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے یانہیں لیکن موجود حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے، کورونا کا معاملہ ہو یا مہنگائی کا حکومت ہر چیز میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے آٹا، چینی کا بحران حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، وزیرخزانہ اور وزیراعلی نے آٹا اورچینی بحران کی اجازت دی تھی لیکن اجازت دینے والوں کا نام رپورٹ میں شامل ہی نہیں ہے۔ فرانزک رپورٹ کا انتظار وزیراعظم کو بچانے کی کوشش ہے، موجودہ حکومت ڈمی ہے۔
خواجہ برادران کاا سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کے حوالے شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ سیاست میں ملاقاتیں ہوتی رہتی ہے سیاست میں دروازے بند نہیں ہوتے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button