جہلم

جہلم شہر میں صدیوں پرانی عمارتیں جھولنے لگیں کسی بڑے سانحے کا خدشہ، مکین خوفزدہ

جہلم: شہر میں صدیوں پرانی عمارتیں جھولنے لگیں کسی بڑے سانحے کا خدشہ ، مکین خوفزدہ، شہر میں درجنوں بوسیدہ اور خطرناک عمارتیں کسی وقت بھی بڑے جانی و مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ان میں کئی عمارتیں ڈیڑھ سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جن خطرناک عمارتوں کومیونسپل کارپوریشن نے بو سیدہ قرار دے کر نوٹس جاری کر رکھے تھے انہیں ابھی تک گرایا نہیں اور نہ ہی واگزار کرایا جا سکا ، جو انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ اگر ان میں سے کوئی بھی عمار ت منہدم ہوتی ہے تو جہلم کے بازار اور گلی محلے اس قدر گنجان آباد ہیں کہ یہ خطرناک عمارتیں دوسری عمارتوں کو بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ جس سے بڑے جانی و مالی نقصانات کا اندیشہ ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ڈپٹی کمشنر جہلم کے حکم پر اندرون شہر میں میونسپل کارپوریشن کی ا نتظامیہ نے اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے دورہ کیا تھا تو انہوں نے متعدد عمارتوں کو خطرناک قرار دیا تھا اور انکی تصاویر بھی تیار کی گئی تھیں۔ لیکن تاحال نہ تو ان پرانی اور بوسیدہ عمارتوں کو گرانے کا کام شروع کیا گیا اور نہ ہی مالکان کو خطرناک عمارتوں میں رہنے پر خبردار کیا گیا۔

جہلم شہر کے عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ پرانی اور بوسیدہ عمارتوں کو فوری گرا کر نئی عمارتیں تعمیر کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ گنجان آباد علاقوں میں رہنے والے مکینوں کے بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے ۔ بوسیدہ عمارتیں اگربارشوں کے موسم میں زمین بوس ہوئیں تو بڑے جانی و مالی نقصانات ہو سکتے ہیں ، ان نقصانات کا کون ذمہ دار ہوگا۔

شہر کی ان قدیم اور بوسیدہ عمارتوں میں رہائش پذیر خاندان اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر قیام پذیر ہیں کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اگر وہ اپنی بوسیدہ عمارتوں کو گرا دیں گے تو ان گھروں میں موجود درجنوں افراد بٹوارے پر لڑائی جھگڑوں پر اتر آئیں گے۔ جس کی وجہ سے ایک ایک عمارت میں درجنوں خاندان حصے دار ہیں ۔

جہلم کے گنجان آباد علاقوں میں قیام پاکستان سے قبل سینکڑوں ایسی لکڑی چونا مٹی کی تعمیر ہونے والی عمارتیںاس قدر بوسیدہ اور خستہ حال ہوچکی ہیں کہ ان میں سے بیشتر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،بعض عمارتوں کی دیواریں بھی گری ہوئی ہیں اور بعض کی چھتیں تک ٹوٹ چکی ہیں ۔ لیکن مکین ان میں رہائش پذیر ہیں ۔

ایک ایک عمارت میں درجنوں خاندان آباد ہیں اور خدشہ ہے کہ کسی ایک بلڈنگ کے حادثے کی صورت میں ان سے جڑی آس پاس کی عمارتیں بھی زد میں آسکتی ہیں ، یہ کھنڈرات نما عمارتیں شہر کے گنجان آباد علاقہ باغ محلہ، ٹویہ محلہ ، مشین محلہ نمبر 1,2,3 شمالی محلہ، محلہ خانساماں، ریلوے کالونی، محکمہ آبپاشی،پی ٹی سی ایل کالونی، پوسٹ آفس کالونی، محکمہ صحت کی کالونی، جیل ملازمین کی رہائشی کالونی سمیت کالا گجراں کے علاقے سمیت متعد دمحلوں کی عمارتیں اپنی بے بسی کا رونا رو رہی ہیں ۔

عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بوسیدہ اور پرانی عمارتوں کا از سر نو سروے کروا کر بوسیدہ عمارتوں کو گرا کر از سر نو تعمیر کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ قرب وجوار میں رہنے والے افراد اور انکے بیوی بچے محفوظ رہ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button