راولپنڈی تعلیمی بورڈ انٹرمیڈیٹ پارٹ ون کا نتیجہ، ہوش ربا غلطیوں کا انکشاف

0

پڑی درویزہ: راولپنڈی تعلیمی بورڈ انٹرمیڈیٹ پارٹ ون کا نتیجہ ہوش ربا غلطیوں کا انکشاف ۔ اسلامیات کے کل نمبر 50جبکہ نتیجہ کارڈ میں 53ظاہر کر دیئے گئے ۔ پھر پارٹ ون کی جگہ پارٹ صفر لکھ دیا گیا ۔ شبہ ہے کہ بعض مضامین کے اندازے کے ساتھ نمبر ظاہر کر دیے گئے تفصیلی مارکنگ نہیں ہوئی۔ طلبا و طالبات کی اکثریت پریشان ۔ صوبائی وزیر تعلیم اور کنٹرولر امتحانات کو فوری نوٹس لینا چاہیے ۔

تفصیلات کے مطابق انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری سکول ایجوکیشن راولپنڈی انٹرمیڈیٹ پارٹ ون کا جو نتیجہ برائے سال 2017-18ء مورخہ 08اکتوبر 2018ء کو شائع ہوا ۔پورے ڈویژن سے 69714 طلباء و طالبات امتحان میں شامل ہوئے جن میں سے 30841 کامیاب قرار پائے اس طرح نتیجہ 44.24 فیصد ظاہر کیا گیا ۔

جوں جوں دن گزرنے لگے تو طلباء و طالبات کی اکثریت پریشان ہوگئی کیونکہ ہوش ربا قسم کی غلطیوں کے انکشافات سامنے آنے لگے ہیں ، ایک طالب علم کے نتیجہ کارڈ میں اسلامیات کے مضمون کے کل نمبر 50میں سے حاصل کردہ 53 نمبر ظاہر کر دیے گئے ۔ اسی طرح ایک اور نتیجہ کارڈ میں پارٹ ون کی بجائے پارٹ صفر ظاہر کر دیا گیا ۔

گورنمنٹ پوسٹ گریجوئیٹ گورڈن کالج راولپنڈی کے تمام مضامین میں کامیاب ایک طالب علم نے وائس آف پاکستان کو بتایا کہ کئی مضامین کے متعلق واضح شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بورڈ میں پیپر مارکنگ سرے سے ہوئی ہی نہیں اور اندازے کے ساتھ پاس نمبر ظاہر کر دیے گئے کیونکہ ممتحن صاحبان کو اپنی وصولی میں اضافہ کی فکر لاحق ہوتی ہے ۔ اس طرح کئی طلباء و طالبات کا ناقابل تلافی نقصان ہو ا ہے ۔

متاثر ہونے والے کئی طلباء و طالبات کا کہنا ہے کہ مارکنگ نہ ہونے کے شبہ کی تصدیق اس طرح ہوتی ہے کہ ایک ہی کلاس کے اکثر طلباء کے ایک مضمون میں صرف ,33 35 یا پھر 40تک نمبر دیے گئے جو کہ حقائق کے منافی ہے طلباء کے خیال میں اگر واقعی مارکنگ ہو تی تو ہر طالب علم کے 60سے 80تک نمبر کا امکان موجود تھا ۔ بورڈ کی اس کارکر دگی کی وجہ سے کئی طلباء و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ۔

پورے ڈویژن بھر کے طلباء و طالبات کی طرف سے صوبائی وزیر تعلیم پنجاب اور چیئر مین و کنٹرولر امتحانات بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی کی بیان بالا کارکر دگی کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف واقعی انضباطی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔نتائج کا اعلان کرتے ہوئے جس طرح کنٹرولر امتحانات عابد کھرل نے امتحانات کو شفاف قرار دیا مذکورہ کارکردگی سے اس بات کی خوب وضاحت ہوجاتی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.