ضلع جہلم میں تبدیلی آگئی — تحریر: محمد شہباز بٹ

0

ضلع جہلم پاکستان مسلم لیگ (ن)کا قلعہ تھا لوگ میاں محمد نواز شریف کے نام پر (ن)لیگی امیدواروں کو ووٹ دیکر اسمبلی بھیجتے رہے لیکن یہاں سے منتخب ہونے والے بعض ممبران نیاقتداراور تکبر کے نشہ میں اپنے قریبی ساتھیوں اور ووٹرز سپورٹرز کو بھیڑ بکریاں سمجھنا شروع کر دیا کچھ تو سمجھتے تھے جہلم کی عوام انکی غلام ہے اور پھر جب پارٹی کے بغیر الیکشن لڑا تو لگ پتا گیا،،، کچھ کو تکبر مار گیا جو سمجھتے تھے میں نے بڑے ترقیاتی کام کروائے انکا تکبر خاک میں مل گیا کچھ کو زبان مروا گئی اور کچھ ایسے تھے جن کو اپنے اور پرائے کی تمیز نہیں تھی ،،،اچھا مشورہ اور تجاویز دینے والے کو وہ مخالف سمجھتے رہے اور کچھ ایسے تھے جو حلقہ کی عوام سے دور رہے نہ کسی کے غم میں شریک ہوئے نہ خوشی میں ، دیر سے اٹھنا اور قریبی ساتھیوں کے بھی فون نہ سننا انکا بہترین مشغلہ بن گیا تھا ،،،سب فنا ہو گیا ،،،عوام نے الیکشن میں ووٹ کی طاقت سے بدلہ لیا ۔

25جولائی کو پاکستان تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا ،سب سے مشکل حلقہ این اے67اور پی پی 27تھا لیکن اسے پاکستان تحریک انصاف نے فتح کیا پی پی 27میں صرف دو ہزار ووٹوں سے پی ٹی آئی کے فواد چوہدری کامیاب ہوئے ،،بڑے بڑے ناموں نذر گوندل،عابد اشرف جوتانہ ،راجہ شاہ نواز ،چیئرمین یونین کونسل دولت پور،ساہو وال،گولپور ،کندووال سب نے فواد چوہدری کا ساتھ دیا اور ان سب کا تعلق تحصیل پنڈ دادنخان سے تھا یہاں سے بھاری لیڈ ہونی چاہیے تھی لیکن جلالپور شریف تک فواد چوہدری صوبائی اسمبلی کی نشست پر 156ووٹ سے ہار کر آئے ،بڑے بڑے نام ناکام ثابت ہوئے اور پھر علاقہ بائی دیس جو نوابزادہ خاندان کا ہوم گراؤنڈ گردانا جاتا تھا۔

یونین کونسل نکہ ،ناڑا اور چوٹالہ کا کچھ حصہ جو پی پی 27میں شامل ہے یہاں سے اگر2200کی لیڈ نہ ہوتی تو مسلم لیگ (ن)کے امیدوار ناصر للِہ باآسانی ایم پی اے منتخب ہو جاتے اگر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے67کی بات کریں تو تحصیل پنڈ دادنخان جہاں بڑے بڑے نام فواد چوہدری کی مہم چلا رہے تھے جلالپور شریف تک صرف ساڑھے تین ہزار کی لیڈ تھی جبکہ یونین یونسل گھرمالہ،مونن،کوٹلہ فقیر ،سنگھوئی ،چوٹالہ،نکہ اور ناڑا سے سات ہزار کی برتری فواد چوہدری کی رہی ،،، ان علاقوں میں فراز چوہدری نے مہم چلائی کوئی بڑا نام شامل نہیں تھا۔

نوابزادہ خاندان کا ہوم گراؤنڈ تھا مشکل کام تھا لیکن فراز چوہدری نے دن رات محنت کی بڑے ناموں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے کارکنان اور عام لوگوں کے پاس گئے گھر گھر عمران خان کا پیغام اور منشور پہنچایا اور کامیابی نصیب ہوئی ،،اب لوگ یہ کہنے پے مجبور ہو گئے ہیں کہ فراز چوہدری کو الیکشن لڑوایا جائے لیکن فراز چوہدری اپنے بزنس پر توجہ دے رہے ہیں وہ معاشیات میں پی ایچ ڈی کے خواہشمند ہیں لوگوں کے اصرار کے باوجود انکی الیکشن لڑنے میں کوئی دلچسپی نہیں وہ اپنے بھائی کے لیے کمپین کر رہے تھے اور بھر پور طریقے سے مہم چلائی ،،،پچیس جولائی کو تبدیلی آئی ،،،اس میں (ن)لیگ کے امیدواروں کا بہت بڑا کردار ہے .

حلقہ میں عدم دلچسپی،فون نہ سننا ،،خوشی اور غم میں شریک نہ ہونا ،،مخصوص افراد سے روابط رکھنا اورنواز نا ،مخلص ساتھیوں کے مشوروں اور تجاویز کو مخالفت قرار دینا ،تکبر ،غرور اور بری زبان ،دیر سے اٹھنا اور زیادہ تر حلقہ می عوام سے دور رہنا ،یہ وہ اسباب تھے جو مسلم لیگ (ن)کی شکست کا مؤجب بنے اور تبدیلی آئی ۔

اگر یہ ہی چیزیں پاکستان تحریک انصاف کے نمائندوں اور نے اپنائیں تو پھر پانچ سال گزرتے پتا نہیں چلتا ،پانچ سال بعد لوگ سب کچھ بھول جاتے ہیں ،کارکردگی کے ساتھ لوگ دیکھیں گے انکے ساتھ منتخب نمائندوں کا رویہ کیسا تھا ،غمی خوشی میں شریک ہوئے اور رابطوں میں کتنا رہے ،تکبر اور عاجزی جیسی چیزیں بھی دیکھی جائیں گی ،اب تو لوگ اس پے بھی ووٹ نہیں دیتے کہ میرا فون ریسیو نہیں کیا اور ریسیو کر بھی لیں تو کہیں گے میرے ساتھ سیدھے طریقے سے بات نہیں کی ۔

الیکشن کے بعد میری ایم این اے چوہدری فرخ الطاف سے تین، چار ملاقاتیں ہوئیں انہیں لوگوں کے ساتھ ملتا اور گفتگو کرتے میں نے دیکھا اور محسوس کیا ان میں تبدیلی آ گئی ہے ان کے پاس ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کا وسیع تجربہ ہے اگر انتظامیہ کی بھاگ دوڑ انکے ہاتھ میں رہی تو امید ہے دس سال قبل انکے شروع کردہ منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچیں گے ، امید یہ بھی ظاہر کی جا رہی ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ہفتہ وار جہلم میں کھلی کچہری لگا کر لوگوں کے مسائل سنیں گے اور حل بھی کروائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.