حکومت نے حلقہ بندیوں کی توثیق کے بعد انتخابات کے انعقاد کے اقدامات کو حتمی شکل دینے کا عمل شروع کر دیا

0

سوہاوہ: حکومت پنجاب نے حلقہ بندیوں کی توثیق کے بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے اقدامات کو حتمی شکل دینے کا عمل شروع کر دیا۔ پنجاب حکومت نے بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں شروع کردی ہیں، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں حلقہ بندیاں کی جائیں گی، حلقہ بندیاں مکمل کرنے کے بعد ایک سا ل کے اندر الیکشن کرانے کا ٹائم فریم بھی دیا گیا۔

انتہائی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق پنجاب میں ضلع کی بجائے تحصیل کی سطح پر اختیارات کی تقسیم کا فارمولا بنایا گیا ہے ، دی گئی تجویز کے مطابق ضلع کی بجائے تحصیل نظام کو مضبوط کیا جارہاہے ، یونین کونسل کا نام تبدیل کرکے شہری علاقوں میں نیبر ہڈ کونسل اور دیہی علاقوں میں پنچائیت رکھا گیا ہے۔

شیڈول کے مطابق نیبر ہڈ کونسل میں 20 سے45 ہزار آبادی والی کونسل میں 5 جنرل کونسلرز ، 2 خواتین کونسلرز اور ایک اقلیتی کونسلر منتخب ہوگا، جبکہ 13 سے 20 ہزار آبادی کی کونسل میں 4 جنرل کونسلرز ، ایک خاتون کونسلر اور ایک اقلیتی کونسلر منتخب ہوگا، اسی طرح 6 سے 13 ہزار آبادی میں 3 جنرل کونسلرز ، ایک خاتون کونسلراور ایک اقلیتی کونسلرمنتخب ہوگا، یہی ترتیب دیہی علاقوں میں ہوگی ، نیبرہڈ کونسل اور پنچائیت کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہونگے۔

جنرل کونسلرز کے انتخابات خفیہ رائے دہی اور ایک ووٹ ایک کونسلرز کو کاسٹ کیا جائیگا، جن کی تعداد مقرر ہوگی ، اس تناسب سے زیادہ سے زیادہ ووٹ لینے والے امیدوران کو کامیاب قرار پائیں گے، جبکہ مقررہ تعداد سے کم ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کو ناکام تصور کیا جائیگا۔ اسی طرح پہلے نمبر پر آنے والی 2 خواتین کامیاب قرار پائیں گی۔

تجویز کے مطابق ہر ووٹر 3 ووٹ کاسٹ کریگا، ایک جنرل کونسلر کے لئے ایک خاتون کونسلر اور ایک اقلیتی کونسلر کے لئے جنرل کونسلرز میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنیوالاامیدوار از خود چیئرمین متعلقہ کونسل بن جائیگا جو کہ پنچائیت کونسل نیبر ہڈ کونسل گورنمنٹ کا سربراہ ہوگا، محکمہ ہاؤسنگ، بلدیات، فنانس اور دیگر محکموں کے افسران پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائینگی جو اختیارات اور محکموں کی تقسیم پر کام کریں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.