جہلم

جہلم پولیس نے ڈی پی او کی مہم کو ہوا میں اڑا دیا، سودی کارروبار میں ملوث عناصر کی موجیں

جہلم: تھانہ سول لائن پولیس نے ڈی پی او جہلم کی مہم کو ہوا میں اڑا دیا، سود خوروں کے خلاف شاکر حسین داوڑ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ، سو دی کارروبار میں ملوث عناصر کی موجیں ، سود کی رقم دینے اور لینے والے دونوں آذاد ، تھانہ سول لائن پولیس حتمی رپورٹ پر کارروا ئی کرنے سے گریزاں ، عوامی، سماجی حلقوں کا سود خوروں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مطالبہ ۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ سول لائن کے علاقہ چشتیاں محلہ کے رہائشی خوشی محمد نے 2 ماہ قبل مرزا رضوان الیاس ولد محمد الیاس سکنہ مشین محلہ نمبر 3 کے خلاف تحریری درخواست تھانہ سول لائن میں دیتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ رضوا ن الیاس نے میرے حقیقی بیٹے وقار احمدسے اشٹامپ پیپراور چیک پر انگوٹھے اور دستخط کرواکے اپنے جال میں پھنسا لیا ہے اور اب وہ میرے بیٹے سے اڑھائی کروڑ روپے کی رقم کا تقاضا کر رہا ہے اور دعوے دار ہے کہ خوشی محمد کے بیٹے وقاراحمد نے رقم حاصل کر رکھی ہے۔

درخواست میں تحریرکیا گیا ہے کہ مذکورہ رقم وقاراحمد نے کارووبار کی غرض سے حاصل کی ہے ، جس پر تھانہ سول لائن نے انکوائری شروع کر رکھی تھی کہ مرزا رضوان الیاس نے تھانہ سول لائن کی انکوائری کے فیصلے سے قبل ہی ڈی ایس پی سٹی سرکل ابراہیم وڑائچ کو تحریری درخواست دائر کر دی کہ وقاراحمد سے جو چیک وصول کئے گئے ہیں مقررہ بینکوں نے مذکورہ چیکوں کو ڈس آنر کرکے دے دیا ہے ، وقاراحمد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس طرح ڈی ایس پی سٹی کے دفتر میں انکوائری کی غرض سے طلب کیا گیا جس سے دل براشتہ ہو کر خوشی محمد کو دل کا دورہ پڑا اور وہ اسی رنج و غم میں خالق حقیقی سے جا ملا، جس پر خوشی محمد مرحوم کے بیٹے ابرار احمد نے اپنے والد کی وفات کو بنیاد بنا کر سود خوروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نامزد افسران نے انکوائری کرکے رپورٹ اخذ کی جس کے مطابق رضوان الیاس ولد محمد الیاس ساکن محمدی چوک پڑھا لکھا شخص ہے اور اس نے محمدی چوک میں جم بنا رکھا ہے جہاں پر نوجوان لڑکے ورزش کے لئے آتے ہیں جن میں وقار احمد بھی شامل تھا ، وقار احمد نے رضوان الیاس سے پہلی مرتبہ ایک لاکھ روپے ، دوسری مرتبہ 3 لاکھ روپے حاصل کئے اور رقم اور منافع کی ادائیگی بھی تواتر کے ساتھ کرتا رہا جس کا رجسٹر میں کوئی مصدقہ ریکارڈ موجود نہ ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وقار احمد اور رضوان الیاس کے رجسٹرڈ میں کسی جگہ دستخط موجود نہ ہیں جبکہ فصیح الدین ولد ظہیر الدین بابر سکنہ چشتیاں محلہ گلی نمبر 3 بھی الیاس نامی نوجوان سے رقم وصول کرکے وقار کو ادا کرتا رہا ہے ، جس کا بھی ریکارڈ میں کوئی تذکرہ نہ ہے ، رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے کہ رقم کے لین دین کی کوئی منی ٹریل موجود نہیں جس سے ثابت ہو سکے کہ مذکورہ رقم کارروبار کی غرض سے وصول کی جاتی رہی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رقم مذکورہ سود کی رقم کی صورت میں وصول کیجاتی رہی ہے ۔

وقار احمد مکمل نادہندہ ہونے پر رقم ادا کرنے سے انکاری ہو گیا، جس کیوجہ سے اس کا والد ہارٹ اٹیک کیوجہ سے جان کی بازی ہار گیا، جس کی بنیاد اس کا حقیقی بیٹا اور سود خور کی رقم مہیا کرنے والا رضوان الیاس بھی ہے کہ خلاف کارروائی کی جائے ۔ 1 ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود تھانہ سول لائن پولیس نے نہ تو نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور نہ ہی باز پرس جس کیوجہ سے سود خوروں کو موقع ملا ہے کہ اگر کسی کے ساتھ جتنی بھی زیادتی کر لی جائے پولیس تعاون کرے گی ۔

موقف جاننے کے لئے ایس ایچ او تھانہ سول لائن سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ تھانے میں بیشمار کام ہیں جب موقع ملا از سرنو انکوائری کرکے تعاون کریں گے کہ ڈی آئی بی نے جو انکوائری کی ہے اس میں کتنی صداقت ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button