پنڈدادنخاناہم خبریں

ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے حکومت سالانہ 40 ارب روپے اضافی ٹیکس حاصل کر سکتی ہے۔ ملک عمران

پنڈدادنخان: سماجی تنظیم سپارک نے تمباکو مصنوعات پر ہیلتھ لیوی کی اہمیت اور افادیت پر ایک آن لائن سیشن کا انعقاد کیا۔

ملک عمران احمد کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز کے کنٹری ہیڈ نے میڈیا کو بتایا کہ ہیلتھ لیوی نافذ کرنا ضروری ہے، اس سے محکمہ صحت کو ملک کے لیے درکار آمدنی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ اس وقت تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے صحت کی لاگت 615 ارب روپے ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے تمباکونوشی میں ملوث ہو جاتے ہیں، سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ کرنے سے تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے، آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور کینسر، ذیابیطس اور فالج جیسی غیر متعدی بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر ہیتھ لیوی نافذ کرنا چاہیے تاکہ سالانہ 40 ارب ریونیو بچایا جا سکے۔

پروگرام منیجر، اسپارک نے بتایا کہ مجوزہ ہیلتھ لیوی بل ایک سگریٹ کے پیکٹ پر 10 روپے ٹیکس نافذ کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس میں اضافہ ایک جیت کی صورت حال ہے کیونکہ یہ صحت عامہ اور حکومت کی آمدنی دونوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔ اس طرح اکٹھا کیا جانے والا سرکاری محصول صحت اور دیگر عوامی فوائد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے خسارے کو متوازن کرنے کے لیے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستانی شہری پہلے ہی ضروری اشیاء پر ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور حکومت صحت کے پروگراموں کے لیے وسائل پیدا نہیں کر سکتی۔

مسٹر شارق محمود خان، پروجیکٹ ڈائریکٹر کرومیٹک نے سوال اٹھایا کہ جب 2019 میں، مالی سال 2019-2020 کے بجٹ کے اعلان کے بعد وفاقی کابینہ نے سگریٹ کے پیک پر طویل انتظار کے ہیلتھ لیوی بل کی منظوری دی اور متعلقہ سرکاری محکمے کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اس پر عمل دارمد کروائیں تو بل ابھی تک کیوں رکا ہوا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایف بی آر کا کہنا ہے کہ انہیں ہیلتھ لیوی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، بل کا مسودہ فراہم کرنے میں تاخیر وزارت صحت کی طرف سے ہے۔ سگریٹ پر ہیلتھ لیوی نافذ ہونی چاہیے کیوں کہ تمباکو ہر سال 170000 سے زیادہ افراد کی جان لے رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button