جہلم

جہلم میں ٹیوشن سینٹروں و اکیڈمیوں میں لوٹ مارجاری، فیسیں ہزاروں روپے، پڑھائی صفر

جہلم: شہر و گردونواح میں قائم ٹیوشن سینٹروں و اکیڈمیوں میں لوٹ مارجاری ، مختصر مدت میں تیاری کا جھانسہ پاس ہونے کی شرطیہ گارنٹی شہرو ملحقہ آبادیوں میں پرائیویٹ اکیڈمیوں کی بھرمار، بعض اکیڈمیوں میں نیم پڑھے لکھے ناتجربہ کار افراد نوجوان نسل کو سہانے مستقبل کا خواب دکھا کر بھاری فیسوں کی مد میں دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف، پابندی کے باوجودسرکاری سکولوں و کالجوں کے اساتذہ نے بھی پرائیویٹ اکیڈمیاںکھول رکھیں ہیں جہاں طلباء کو زبردستی ٹیوشن پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر وگردونواح میں میٹرک انٹر بی اے اور ایم اے کے امتحانات میں انتہائی قلیل مدت میں تیاری کا جھانسہ دیکر شرطیہ پاس ہونے کی گارنٹی کیساتھ اندرون شہر کے گنجان آباد اور پوش علاقوں ، کچہری روڈ، ڈھوک فردوس، اپوا کالونی ، پروفیسر کالونی ،مجاہد آباد، جہلم کینٹ سمیت کالا گجراں و دیگر علاقوں میں تعلیم کے نام پر لوٹ مارکرنے والوں نے بھاری کرایوںپر عمارتیں حاصل کرکے پرائیویٹ اکیڈمیاں کھول رکھی ہیں۔

اس وقت سب سے زیادہ اکیڈمیاں اندرون شہر کے گلی محلوں میں موجودہ ہیں جہاں نیم پڑھے لکھے ناتجربہ کار اور بے روزگاری سے تنگ افرادنے سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات کو سہانے مستقبل کے خواب دکھا کر ان کو انتہائی قلیل مدت میں تیاری کا جھانسہ دیکر ہر صورت میں پاس ہونے کی شرط پر دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر رکھا ہے اور انہیں کوئی پوچھنے والانہیں ، نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے روشن مستقبل کی خاطر تعلیم کے نام پر کارروبار کرنے والے علم دشمنوں کے ہاتھوں اپنا مستقبل داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔

اسی طرح پابندی کے باوجود سرکاری سکولوں کے اساتذہ نے بھی اپنی ذاتی رہائش گاہوں سمیت مالی طور پر مستحکم افراد کے گھروں پر ٹیوشن کے نام پر دھندہ شروع کررکھاہے اور مختلف سرکاری سکولوں میں اپنے پیشہ ورانہ سرکاری فرائض انجام دینے والے اساتذہ اپنے اپنے سکولوں میں زیر تعلیم غریب اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلباء کو اپنے ٹیوشن سینٹروں اور اکیڈمیوں میں ٹیوشن پڑھنے پر مجبورکرتے ہیں اور غربت کے باعث ٹیوشن نہ پڑھنے والے طلباء کو ٹیوشن پڑھنے والے طلباء پر نسبتاًنہ صرف کلاسوں میں نظر انداز کیا جاتا ہے بلکہ ان کو معمولی غلطی پر کلاس میں ڈی گریڈ کرنا اساتذہ نے ایک طویل عرصے سے وطیرہ بنا رکھا ہے۔

اس سنگین صورتحال پر عوامی ، سماجی ، رفاعی ، فلاحی اور شہری تنظیموں کے عمائدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر تعلیم ، سیکرٹری ایجوکیشن ، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم ، سی ای او ایجوکیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے ۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. یہ مبالغہ آرائی ہے۔ کیڑے نکالنا بہت آسان ہے مگر اس کا حل نکالنا مشکل ہے۔ برائے مہربانی تعلیم کو تو بخش دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button