پنڈدادنخان

ایک سال کے دوران مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں۔ سید اختر علی شاہ

پنڈدادنخان:  گزشتہ ایک سال کے دوران مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں، معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین دادا اور نانا کو گولیوں سے چھلنی کرنا ایک معمول بنا لیا ہے، دنیا کے نام و نہاد منصوبوں اور عالم اسلام کی پراسرار خاموشی ظالم کوظلم کی ترغیت دینے کے مترادف ہیں۔

ان خیالات کا اظہار 5اگست یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹری انفارمیشن حکیم سید اختر علی شاہ بخاری نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے جلسے جلوس ریلیاں مذمتی قراردادیں ایک منٹ کی خاموشی اور ہاتھوں کی زنجیریں بنانے سے نہ تو کشمیر آزاد ہوگا اور نہ ہی مظلوم و محکوم اور بے بس مجبورکشمیری مسلمانوں کی کوئی مدد ہوسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اور کشمیریوں کی مدد کا واحد حل جہاد اور صرف جہاد ہے جب سے مسلمانوں نے تلواریں ہاتھوںمیں رکھنے کی بجائے میانوں میں ڈال کر صندوقوں میں بند کر دی ہیں اس وقت سے مسلمان مسلسل ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔

تحصیل سوشل ویلفیئر کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میںمہمان خصوصی تحصیل سوشل ویلفیئر آفیسر ملک محمد سلیمان تھے ۔

اس موقع پرتحصیل ویلفیئر کونسل کے جنرل سیکرٹری ملک نیئر اعوان چوہدری طاہر ارشادخواجہ شوکت محمود تحصیل پریس کلب کے جنرل سیکرٹری یونس شہباز اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والے بدترین تشدد ظلم و ستم اور مودی حکومت کی طرف سے کشمیر کوبھارت کا حصہ قرار دینے کی سازش کو ایک بہت بڑا ظلم عظیم اور اقوام متحدہ کے منہ پر ایک طماچہ قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیر بیان بازی جلسے جلوسوں یا ریلیوں سے نہیں بلکہ عملی اور ٹھوس اقدامات سے ہی آزاد ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button