سوشل میڈیا اور سیاست — تحریر: شہباز بٹ

0

سوشل میڈیا اسوقت وہ بے لگام ہاتھی بن چکا ہے جسے کنٹرول کرنا کسی حکومت،ایجنسی یا سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں،اب تو ذرا سی غلطی کسی بے چارے سیاستدان، صحافی یا سرکاری افسر سے ہوتی جائے اسکا بتنگڑ بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے حقائق جانے بغیر ایسے ایسے جملے تحریر کیے جاتے ہیں یا پھر ایسی ایسی پوسٹیں بنا کر شئیر کی جاتی ہیں جنہیں پڑھ اور دیکھ کر شرمندگی اور افسوس کے علاوہ انسان کچھ نہیں کر سکتا،یہاں تک بھی ہوتا ہے کہ جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنا کر نہ صرف مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی ہے بلکہ بغیر تحقیق اور ثبوت کے کفر کے فتوے لگا دئیے جاتے ہیں۔

اب تو سوشل میڈیا کی اہمیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا سیل بنا دئیے ہیں،کچھ سیاسی جماعتوں کے میڈیا سیل باضابطہ طور پرملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلا رہے ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل ایک دوسرے کے لیڈران کے خلاف ایسی ایسی پوسٹیں اور تصویریں اپ لوڈ کرتے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل اعتراض سمجھی جاتی ہیں، ہر کسی کے ہاتھ میں سمارٹ فون دکھائی دیتا ہے بعض اوقات تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے پاک بھارت جنگ ہو رہی ہو۔

یہ سوچے سمجھے بغیر بے ہودہ اور قابل اعتراض مواد اور جملے اپ لوڈ کر دئیے جاتے ہیں جیسے کسی کو یہ معلوم ہی نہیں کہ اپ لوڈ کرنے والے کی ماں بہن اور بیٹی بھی سوشل میڈیا استعمال کر سکتی ہے، اگر سوشل میڈیا کا استعمال مثبت انداز میں کیا جائے تو یہ رابطوں اور تشہیر کا آسان اور سستا ذریعہ ہے الیکشن مہم میں اسکا استعمال انتہائی کار آمد ثابت ہوا۔

اگر مثال دی جائے تو جہلم کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم جس میں احسن باگڑیاں،چوہدری نوید ایڈووکیٹ،چوہدری نوید احمد جکر،علی جٹ،عمر جٹ،شانی شاہ،چوہدری اویس،چوہدری دانش،ابرار جنجوعہ، عاصم اعجاز،محمد یامین،قمر مارتھ،چوہدری شہزاد انجم،مرزا راشد،ملک عمران مانی،خاری بٹ،مرزا وسیم بیگ،چوہدری محمود الحسن مونن، میاں عاصم باگڑیاں،علی بٹ دینہ،عمر جٹ،سید رضوان کاظمی،عبداللہ صادق،چوہدری ثاقب آرائیں،جبار جٹ تما،فصیح گجر کھوکھا، سعد گجر ہڈیالی،خرم شہزاد کالا گجراں،ملک عدنان کالا گجراں،علی کھوکھر کالا گجراں،چوہدری فیصل بھون،راجہ مجاہد جنڈالہ،احسن اعجاز کلری،ندیم ساہی،چوہدری تمیور،قیصر وحید،حمزہ ڈار قابل ذکر ہیں ہے نے بھر پور کردار ادا کیا انکے مقابلے میں مسلم لیگ (ن)کی سوشل میڈیا ٹیم نے مہم تو چلائی لیکن غیر اخلاقی زبان اور قابل اعتراض پوسٹس اور ملکی اداروں کے خلاف جملہ بازی کا استعمال زیادہ کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے کچھ کارکنان بھی جذباتی ہوئے جس سے بات گالی گلوچ تک پہنچی،،،حکومت بنے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ روز ہوئے ہوں گے لیکن سوشل میڈیا پر ایک جماعت کا سوشل میڈیا تنقید کے ایسے نشتر چلا رہا ہی جیسے حکومت کیچار سال گزر گئے ہوں،وفاقی وزیراطلاعات و نشریات نے میڈیا پر وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر میں استعمال ہونے والے ایندھن کے اخراجات بتائے تو سوشل میڈیا پر اسکا بتنگڑ بنایا گیا ماہرین سے رائے لیے بغیر تجزیئے تبصرے اور سوشل میڈیا پر مہم شروع کر دی گئی جبکہ دوسرے روز ماہرین نے فواد چوہدری کے بیان سے اتفاق کیا، سوشل میڈیا اسوقت ایسا بے لگام ہاتھی بن چکا ہے جو کنٹرول سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی سلیم صافی نے نواز شریف کے بطور وزیر اعظم اخراجات کے حوالہ سے خبر دی جو غلط بھی ہو سکتی ہے اور حکومت اسکی تردید یا تصدیق کر سکتی ہے اور اخلاقیات کے دائرہ میں رہ کر تنقید بھی ہو سکتی ہے لیکن سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے کا استعمال انتہائی ہتک آمیز اور بے ہودہ زبان میں کیا گیا،تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو چاہیے کہ اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو اخلاقیات کے دائرہ کار میں رہ کر مہم چلانے کا درس دیں اور حکومتی سطح پر بھی جعلی فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانے،ملکی اداروں کے خلاف ہرزا سراہی کرنے اور غیر اخلاقی مواد کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ قانون سازی ہونے چاہیے۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.