جہلم

نئے بلدیاتی نظام کے تحت پیدائش ، اموات ،شادی اور طلاق کے اندراج کا نیا نظام لاگو

جہلم: نئے بلدیاتی نظام کے تحت پیدائش ، اموات ،شادی ، طلاق کے اندراج کا نظام فول پروف اور شفاف بنا کر اس کے نئے بائی لاز جاری کرکے لاگو کر دیئے گئے ، بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن مکمل مفت کر دی گئی ہے ، ایک سے زائد مقامات ، شہروں میں دوہرا اندراج جرم قرار دے دیا گیا۔
اندرون ملک کے ساتھ بیرون ملک ، جیلوں میں پیدا ہونے والے بچوں اور لاوارث بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کا بھی نیا قانون متعارف کروا دیا گیا ، لاوارث بچوں ، جیل میں پیدا ہونے والے بچوں اور تاخیر سے اندراج کرنے والوں کی رجسٹریشن سرخ سیاہی سے کی جائیگی جبکہ بیرون ملک پیدا ہونے والے بچوں کی رجسٹریشن سبز سیاہی سے ہوگی۔
خواجہ سراؤں کی پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن بھی لازمی قرار دے دی گئی ہے ، پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن کا غلط اندراج باقاعدہ جرم قرار دے دیا گیاہے ، غلط اندراج کرنے والے سرکاری اہلکار کو ملازمت سے برطرف کیاجائیگا۔ فوجداری مقدمہ بھی درج ہوگا۔
عام شہریوں کو بھی کسی بھی فرد، یا خاندان کی پیدائش ، اموات کا ریکارڈ چیک کرنے کی قانونی اجازت دے دی گئی ہے ، اسکے لئے درخواست گزار کو 100 روپے فیس ادا کرنا ہوگی تاہم کسی کی بھی تاریخ اور موت بارے غلط معلومات دینے والے کے خلاف بھی سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوگا، تاریخ پیدائش میں تبدیلی صرف عدالتی حکم پر ہو سکے گی ، باقی تمام راستے جرم قرار دیئے گئے ہیں۔
جہلم سمیت پنجاب بھر میں پیدائش ، اموات کی رجسٹریشن کے 4200 مراکزقائم کئے گئے تھے ، شہریوں کی سہولت کے لئے انہیں بڑھا کر 25 ہزار کر دیا گیاہے ، صوبہ بھر کی تمام پنچائیت اور محلہ کونسلوں کو بھی پیدائش ، اموات کے اندراج کے لئے سہولت سینٹرز کا درجہ دے دیا گیاہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button