سانحات سے بچاؤ

تحریر: غضنفر علی اکرام

0

گزشتہ روز ہمارے گاؤں دھنیالہ تحصیل دینہ میں ایک دلخراش سانحہ اس طرح وقوع پذیر ہوا کہ جس میں چھ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں اس سانحہ کی غمناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان چھ مرحومین میں چار اپنے اپنے گھرانے کے سربراہ تھے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے باپ تھے اور واحد کفیل تھے۔

سب کی ایک دوسرے کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی تھی جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے یا اس کی خواہش میں اتنی جانیں گئیں حالانکہ جو کام اتنی تاخیر اور بڑا نقصان اٹھانے کے بعد کی گئی وہ پہلے متاثرہ شخص کے لئے ہی کر دی جاتی تو شائد باقی پانچ قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں، میری مراد ریسکیو اسٹاف کو بروقت کال کرنے سے ہے کیونکہ جب اس طرح کا سانحہ پہلی بار وقوع پذیر ہوتا ہے تو اندھا دھند دوسروں کو بچانے کے لئے بلا سوچے سمجھے ایسی کارروائی نہیں کرنی چاہیے جو ریسکیو کرنے کی بجائے ایک اور سانحہ کا باعث بن جائے۔

یہاں تو اوپر تلے چھ سانحات ہو گئے اور ریسکیو اسٹاف کو بلاتے ہوا اتنی دیر ہو گئی کہ ازالہ ممکن ہی نہیں رہا یہ حادثہ بھی بڑی حد تک معلومات سے بے خبری کے باعث پیش آیا جب کنویں کے اندر کافی دیر سے جنریٹر چلتا رہا تو لازمی طور پر پتہ ہونا چاہیے کہ اندر دھواں اور جنریٹر کے سلینسر سے نکلنے والی گیس بھر گئی ہو گی اور اس گیس کے کنویں سے اخراج سے پہلے نہ اترا جاتا مگر قدرت کی طرف سے جو ہونا تھا وہ ہو گیا اللّہ کریم مرحومین کو جنت نشیں کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے (آمین)

اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لئے عوامی آگاہی بہت ضروری ہے دراصل یہ مضر گیس کاربن مونو آکسائڈ ہوتی ہے جو گاڑیوں،جنریٹروں کمروں کو گرم کرنے والی کوئلے کی انگیٹھیوں سے خارج ہوتی ہے اور بہت نقصان دیتی ہے کیونکہ یہ گیس بے رنگ اور بے بو ہوتی ہے اس لئے محسوس نہیں ہوتی مگر سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر خون کے سرخ سیلز کی آکسیجن گیس کی جگہ لے لیتی ہے۔

یہ آکسیجن کے ساتھ مل کر ایک اور زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائڈ میں تبدیل ہو جاتی ہے جو ہم سانس لیتے ہوئے جسم سے خارج کرتے ہیں۔ کاربن مونو آکسائڈ ہمارے ان اعضا پر بہت تیزی سے اثر کرتی ہے اور زندگی بخش اعضا (vital organs) یعنی دل،دماغ اور پھیپھڑوں کو ناکارہ کر دیتی ہے مسلز میں باہمی ربط کمزور کر دیتی ہے جب یہ گیس جسم میں داخل ہوتی ہے تو درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں ۔

1-سر درد 2۔چکر آنا 3۔سانس بوجھل ہونا 4۔سینے میں جکڑن5۔قے یا الٹیاں لگ جانا 6۔فوری طور پربیہوش ہو جانا

اگر گھر میں کسی کمرے میں ہیٹر یا انگیٹھی زیر استعمال ہو اور گھر کے کسی فرد میں درج بالا علامات میں سے کوئی ظاہر ہو تو یہ سب کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے لہٰذا فوری طور پر کھڑکیاں دروازے کھول دیں اور بھر کھلی فضا میں آ جائیں اور گہرے لمبے سانس تازہ ہوا میں لیں تا کہ زیادہ سے زیادہ آکسیجن جسم کے اندر جائے اور کاربن مونو آکسائڈ کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔ اگر ایک سے زیادہ علامات ظاہر ہوں تو قریبی ہسپتال فوری طور پر پہنچیں کیونکہ بیہوشی کی صورت میں پیچیدگی میں بہت اضافہ ہو جائیگا۔

سائنسی طور پر کاربن مونو آکسائڈ کی نصف زندگی پانچ گھنٹے ہوتی ہے اس گیس سے بیہوش ہونے والے مریض کے جسم سے مناسب علاج کے باوجود اثرات اور نقاہت دور ہونے میں 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں اس لئے بہتر ہوتا ہے کہ تھوڑی سی کوشش سے بڑے نقصان سے بچا جائے اور اگر تھوڑی سی کوشش اور آگاہی ہو تو سانحات وقوع پذیر نہیں ہوتے اور اگر ہوں بھی تو جوش کی بجائے ہوش سے کام لے کر نقصان میں واضح کمی کی جا سکتی ہے ۔

یہ مضمون بخش ہسپتال دھنیالہ کی طرف سے عوامی آگاہی کے لئے لکھا گیا رمضان المبارک میں دوسروں کی زندگیاں بچانے کے مشن میں شامل ہیں اور اپنی زکات و صدقات کا کچھ حصہ بخش ہسپتال کو بھی ضرور عطیہ کریں ۔
www.bukhsh.org

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.