جہلماہم خبریں

مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ضلع جہلم کا بیڑہ غرق کیا گیا۔ راجہ یاور کمال

جہلم: مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ضلع جہلم کا بیڑہ غرق کیا گیا، دس سالوں میں صرف عوام کے بے وقوف بنایا گیا ، این اے 66 میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا گیا، ووٹ لینے کے لئے سڑکیں اکھاڑ دی گئیں ، سیوریج اور نکاسی آب کے نام پر کروڑوں روپے کرپشن کی نظر ہوئے۔

ان خیالات کا اظہار صوبائی ، پارلیمانی سیکرٹری پنجاب ایم پی اے راجہ یاور کمال خان اور ایم این اے چوہدری فرخ الطاف کے ترجمان ڈاکٹر فضل الحق فضلی نے مشترکہ میٹ دی پریس پروگرام میں جہلم پریس کلب کے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے این اے 66 میں سڑکوں کے جال بچھائے ، ہسپتالوں کی حالت بہتر بنائی ، ڈاکٹرز اور عملے کی کمی پوری کی گئی ، اسکولوں کو اپ گرید کروایا ، مالی سال 2021-22 میں ایک ارب سے زائد کے منصوبے این اے 66 میں مکمل ہوں گے، بجلی کی فراہم کے لئے نواحی علاقوں میں بھی پول لگوائے ، واٹر سپلائی کے لئے سوہاہ میں بکڑالہ ڈیم کی منظوری ہوگئی ہے، جلدوزیراعلیٰ پنجاب تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دینہ بکڑالہ ڈیم اور دیگر منصوبوں کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ دریا کے کنارے کو خوبصورت بنانے کے لئے ورلڈ بینک کا منصوبہ بھی شروع ہے ، شہر میں سیوریج کے نام پر 53 کروڑ روپے خرد برد کئے گئے کسی نے نوٹس نہیں لیا، سڑکوں کی خستہ حالی مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ہوئی لوگ سوال ہم سے کرتے ہیں ، انشاء اللہ جادہ تا شاندار چوک اور اکرم شہید روڈ کی تعمیر جلد شروع ہو جائے گی ۔ منگلاڈیم ریڈ زون میں دریائے جہلم سے پتھر اور ریت نکالنے سے سڑکیں تباہ ہورہی ہیں ، ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے ، انشاء اللہ جلدان عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

راجہ یاور کمال نے بتایا کہ جب 2018 میں ہماری حکومت آئی تو سوہاوہ دینہ پسماندگی کی علامت تھے اس وقت اسی حلقے میں دو ایم پی اے تھے دس سالوں میں چیلنج کرتا ہوں کوئی ایک منگلا پراجیکٹ دکھا دیں اسوقت مسلم لیگ ن کے ایم این اے اور ممبران اسمبلی اس حلقے میں تھے تین ممبران کے مسائل تھے لیکن کوئی بڑا منصوبہ شروع نہ کیا، دس سال بعد حکومت نے دینہ میں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال مکمل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے آخری سال مسلم لیگ ن نے ووٹ کے حصول کے لئے بڑی سڑکیں اکھڑدیں لیکن وہ انہیں ڈی پی سی میں نہ ڈلوائیں ، سڑک کے لئے ایم این اے چوہدری فرخ الطاف اور مجھے دو دفعہ وزیراعلیٰ کے پاس جانا پڑا ، ہماری دونوں کی گرانٹ پر اگر انحصار کیا جاتا تو ہم دس فی صد بھی کام نہیں کر سکتے تھے ، وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد 26 کروڑ روپے ڈومیلی روڈ کے لئے اجراء ہوا، اور سڑک مکمل ہوئی ، 51 کروڑ روپے کھوکھا روڈ کے لئے دوبارہ منظور کروایا ، اس پر کام جاری ہے ، جلد مکمل ہو جائے گا۔

راجہ یاور کمال نے کہا کہ میں اور ایم این اے چوہدری فرخ الطاف بیٹھے تو ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ کہاں سے ہمیں ووٹ ملے ، کہاں سے نہیں ، ہم نے ترجیحات بنائی اور بلا تفریق منصوبے شروع کروائے ، اللہ کی مہربانی سے جنوبی پنجاب کے بعد سب سے زیادہ فنڈز ایم این اے چوہدری فرخ الطاف اور میں حلقہ این اے 66 پی پی 25 میں لیکر آئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تختیاں لگانے اور تصویریں بنانے کی بجائے عملی طور پر حلقے کی عوام کے لئے کام کرنے کی طرف توجہ دی ، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سوہاوہ میں ڈاکٹرز اور عملے کی کمی کو پورا کروایا ، ٹی ایچ کیو سوہاوہ کے لئے فنڈز جاری کروائے ، بنیادی مراکز صحت کی حالت پر توجہ دیتے ہوئے سٹاف کی کمی اور ڈاکٹرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا۔

ممبر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ سوہاوہ کی گلیاں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی تھیں ، دیہی علاقوں کی حالت بھی ابتر تھی گزشتہ دور میں صرف 4/5 یونین کونسلزمیں گلیاں بنوائی گئیں ، اب ہم نے تمام دیہاتی علاقوں میں کنکریٹ گلیاں تعمیر کروائی ہیں ، 70 فیصد گلیاں تعمیر ہوچکی ہیں ،اب جا کر دیکھیں ، پڑی درویزاں سمیت بے شمار علاقوں کی سڑکیں مکمل ہو چکی ہیں جو رہ گئی ہیں وہاں پر ٹھیکیدار کام کر رہے ہیں ، گزشتہ دس سالوں میں مسلم لیگ ن نے کسی سرکاری ادارے کی طرف توجہ نہیں دی ہم نے اسکولوں کو اپ گریڈ کروایا ، 1 سال میں 90 اسکول اپ گریڈ ہوئے۔

راجہ یاور کمال نے کہا کہ ہمارے علاقے میں ایک ڈگری کالج رسولپور تعمیر کیا گیا، لیکن وہ مسلسل بند پڑا رہا ،کالج کو صرف سیاسی پوائنٹس سکورنگ کے لئے تعمیر کروایا گیا،تعمیر کے بعد اسے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا۔کالج کی سب سے بنیادی ضرورت اسسٹنٹ پروفیسرز ہوتے ہیں لیکن کسی حکومتی نمائندے نے اس وقت توجہ نہیں دی ، میں اپنے ایم این اے کے ساتھ صوبائی حکومت کے پاس گئے ہائر ایجوکیشن کے وزیر سے بات کی اور باضابطہ سمری منظور کروا کے دیہاتوں میں قائم کالجز سے پروفیسرز کی سیٹ ختم کی جائیں اب کالج باقاعدہ کام کر رہا ہے ، دینہ کے اربن ہیلتھ سینٹر میں کچرہ کنڈی کا ڈھیر لگا ہوا تھا میں نے اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ وزٹ کیا گندگی اٹھوائی ، 80 لاکھ سے 1 کروڑ کی رقم لگی اب وہ باضابطہ طور پر کام کر رہا ہے ۔

میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے راجہ یاور کمال نے کہا گزشتہ دور حکومت میں دینہ کے ساتھ سخت زیادتی کی گئی ، جب بلدیاتی الیکشن کروائے گئے تو ان کی نیت میں عوامی فلاح نہیں تھی ، اس کیوجہ اگر ان کی نیت میں یہ تھا کہ ہم نے کام کرنا ہے ، تو 20 کروڑ روپے دینہ بلدیہ کا بجٹ تھا جو پڑا ہوا تھااور دینہ بلدیہ کے چیئرمین کی نااہلی کیوجہ سے ترقیاتی کاموں پر رقم نہیں لگائی گئی ، ہم نے جب بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کی حلقے کی تعمیر و ترقی کے لئے فنڈز کی بات کی اور ترقیاتی کاموں پر لگائے اور منصوبے مکمل کروائے۔

انہوں نے کہا کہ اقبال ٹاؤن دینہ کا مسئلہ حل کروایا ، دینہ منگلا روڈ کا سب سے بڑا مسئلہ تھا جب نالوں کی صفائی پر ہاتھ ڈالا تو کہا گیا کہ فنڈز کہاں سے لیں گے ، ہم ایم این اے کے ساتھ موقع پر گئے دینہ منگلا روڈ پر نالوں کی صفائی کروائی اور تاریخ میں پہلی بار دینہ منگلا روڈ پر پانی کھڑا نہیں ہوا۔

راجہ یاور کمال نے کہا کہ منگلا روڈ کی تعمیر کے لئے فنڈز منظور ہو گئے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ ہائی وے یہ کام کرے کہ ایک چٹھی سیکرٹری کو لکھنی ہے اور یہ فنڈز ہائی وے کو منتقل ہو جانے ہیں ، اگلے 5/6 ماہ میں اس کی تعمیر کا م شروع ہو جائیگا۔ نکودر بائی پاس روڈ حکومت پنجاب کا عظیم کارنامہ ہے جلد اس کی تعمیر پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ایم این اے نے دینہ اور سوہاوہ میں ریسکیو سروس کی بات کی جو اس کی سروس کو ریگولر شروع کر دیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ کے دورے پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا اعلان کیا جائیگا۔ حلقہ این اے 66 میں پہلے بھی بطور ضلع ناظم فرخ الطاف نے کام کروائے اور اب کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں بجلی کاکام نہ ہوا ہو۔

ممبر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ جو ڈسٹرکٹ پیکج منظور ہوا ہے وہ سب سے زیادہ جہلم کا ہے اس میں ڈیڑھ ارب ایم این اے چوہدری فرخ الطاف ، ڈیڑھ ارب ایم پی اے چوہدری ظفر اقبال اور ڈیڑھ ارب میرا ہے اور وفاقی وزیر فواد چوہدری نے جو منصوبے شروع کروائے ہیں ان کی تو نظیر ہی ماضی میں نہیں ملتی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button