دینہ

حرام کا لقمہ نیت سے فساد پیدا کرتا ہے اور عمل تک لے جاتا ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: اللہ کریم نے جو اصول ارشاد فرمائے ہیں ان کو سمجھنا ،سیکھنا اور پھر اختیار کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ،انسانی معاشرے کی خرابی کا سبب دین اسلام کے احکامات سے دوری ہے ،اللہ کریم خا لق ہیں اور تمام مخلوق کی ہر ضرورت ہر جگہ ہر وقت پوری فرماتے ہیں ،اللہ کریم نے ہر پہلو میں راہنمائی فرمائی ہے ،انبیاء مبعوث فرمائے ،کلام ذاتی نازل فرمایا۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رشتوں میں سب سے عظیم رشتہ بندگی کا ہے،اللہ کریم نے اس بشر کو اپنی عبادت اور اپنے قرب کی تڑپ عطا فرمائی یہ اتنی بڑی عطا ہے جو اللہ کریم نے صرف اس بشر کو عطا فرمائی ،نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو تعلیم اور تربیت فرمائی اور پھر تصدیق فرمائی ،کتنا عظیم اہتمام اس مخلوق کو نصیب ہوا اور قیامت تک کے لیے محفوظ بھی،زندگی کے ایک ایک پہلو میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔

انہوں نے کہا کہ اولاد کی تربیت کے حوالے سے کہ عہد نبوی ﷺ سے پہلے اولا دوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا جاتا ،بچیوں کوبچوں کو مفلسی اور انا کی وجہ سے نا حق قتل کر دیا جاتا ،اسلام نے اولاد کو نا حق قتل کرنا کبیرہ گناہ قرار دیا اور فرمایا جو رب کائنات تمہیں رزق دے رہا ہے ان کو بھی وہی اللہ رزق دے گا لہذا مفلسی کے ڈر سے اپنی اولادوں کو قتل نہ کرو ،اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جب ہم اپنی اولاد کو زمانے کی روش پر چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی وہ تربیت نہیں کرتے جو دین اسلام نے فرمائی ہے تو یہ بھی قتل اولاد کے پہلو میں ہی آتا ہے ،اور یہ اُس سے بھی بڑا ظلم ہے اس سے اس کے دونوں جہاں دین اور دنیا دونوں تباہ ہو گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سارے معاشرے کی تعمیر سود پرہے اور پھر ہمارے حکمران امید بھی لگائے بیٹھے ہیں مطمئن بھی ہیں،جب اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ کر رہے ہیں تو حالات کیسے بہتر ہوں گے ہماری اولادیں کیسے فرمانبردار ہوسکتی ہیں،آج ہم معاشرے کی خرابی پر دوسروں پر تو اعتراض کرتے ہیں لیکن خود کو چھوڑ دیتے ہیں ،آج اگر ہماری اولاد نا فرمان ہے تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا میں نے ان کی تربیت دین اسلام کے مطابق کی ہے کیا میں جو کمائی کر رہا ہوں وہ حلال ہے جو لقمہ اپنی اولاد کو کھلا رہا ہوں وہ کمائی جائز طریقہ سے گھر میں آرہی ہے ، پھر ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ میں جو مرضی کروں لیکن میری اولاد نیک اور فرمانبردار ہونی چاہیے ایسے نہیں ہوتا کہ حرا م کا لقمہ نیت سے فساد پیدا کرتا ہے اور عمل تک لے جاتا ہے ،اولا دکی تربیت بہت ضروری ہے ۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button