کالم و مضامین

سحر انگیز ٹلہ جوگیاں

تحریر: امیر حمزہ

موسم بہار کی آمد آمد ہے۔گھر کے صحن میں گلاب کی کیاری کو پانی دیتے جب نظر گلاب کے کھلکھلاتے پھول پڑی تو سوچ آئی کہ موسم بہار خوشیوں اور مسرتوں کاپیغام بن کر آتا ہے۔ہر طرف رنگینیاں اور رعنائیاں بکھری ہوئی ہیں پھولوں کی مہک سے اردگرد کا موحول معطر ہے۔ہر رنگ کاپھول دھرتی کے حسن کو چار چاند لگا رہا ہے۔

بہار آئی تو جیسے ایک بار
لوٹ آئے ھیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے شباب سارے
جو تیرے ھونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ھیں گلاب سارے

انہی سوچوں میں گم تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی کال پک کرتے ہی خالد عبداللہ بھائی کی رس گھولتی آواز سماعتوں سے ٹکرائی کہ حمزہ بھائی ٹلہ جوگیاں جانے کا پروگرام ہے یہ بات سنتے ہی دل خوشی سے جھوم اٹھا کیونکہ ھم ٹھہرے آوارہ گردبس فورا حامی بھر لی۔

مقررہ وقت پہ دینہ سے یہ قافلہ خالد بھائی کی سربراہی میں جس میں حبیب،مظاہر،طلال اور ساتھی بھی شامل تھے منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔دینہ سے ٹلہ جوگیاں جانے کے تین راستے ہیں۔ براستہ بڑاگواہ،براستہ قلعہ روہتاس سے تھوڑا سا آگے بائیں جانب کچا رستہ اور تھانہ دینہ سے موٹہ غربی سے آگے نالہ گھاں کو کراس کرتے جو سڑک بنگیال گاؤں کو جاتی ہے۔

گاؤں پیٹھ (پیٹھ ٹلے ایٹھ)سے پیدل جب 3200 فٹ کی بلندی طرف سفر شروع تو مصطفی زیدی کا شعر یاد آ گیا کہ

انہی پتھروں پہ چل کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آسکوتوآؤ
میرے گھر کے راستے میں۔۔۔۔۔کوئی کہکشاں نہیں ہے

ٹلہ کے چوٹی تک جانے کا راستہ کانٹے دار جھاڑیاں انتہائی چھوٹا اور پتھریلا ہے۔ابھی نصف سفر طے تو نوجوانوں کے چودہ طبق پیاس سے روشن ہو گئے۔درختوں کے سائبان میں سستانے لئے رکے اور پانی سے سب نے پیاس بجھائی اسی دوران پنجابی کلام کی آواز سماعتوں سے ٹکرانے لگی۔معلوم کرنے پہ پتا چلا کہ یہاں چرواہے اپنا وقت گزارنے کے لئے صوفیانہ کلام ٹپے گنگناتے ہیں اور ہیر رانجھا کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔

اساں کنگھرو پائے پیراں وچ
اساں نچ نچ کے یار منایا ایہ
ساڈی نسبت بلھے شاہ نال ایہ
اسی عشق نو توڑ چڑھایا ایہ

ٹلہ جوگیاں پر قدم رکھتے ہی قدرت کے رنگ دیکھ کرتھکاوٹ سے چور جسم تروتازہ ہو گئے سب کی ٹلہ جوگیاں تک جانے کی محنت وصول ہو گئی تھی۔ٹلہ جوگیاں بہار کو اوڑھے پیارمحبت کی سرمستی میں جھوم رہا تھا یہاں آ کہ محسوس ہوا کہ بہار واقعی خوشیوں اور رنگوں کا موسم ہے۔میرے رب کی تخلیق کردہ کسی بھی چیز کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔

ٹلہ جوگیاں پہنچتے ہی بھوک بھی چمک اٹھی کہیں سے آواز آئی کہ اوہ کھوپا (مطلب ناریل) معلوم ہوا کہ بیساکھی کے لئے سکھ برادری یہاں پہ اپنی عبادت کے لئے آئے تو وہ اپنی رسومات جن میں کھوپا چڑھانا بھی شامل ہے بابا جی کو چڑھا کہ گئے بابا جی کا تو پتا نہیں لیکن ہماری بھوک مٹانے کے لئے یہ نعمت بہت کام آئی۔

سب نے مل کر کھانے کا انتطام کیا جس پانی میں چاول پکے وہ کیسا تھا بس کچھ نہ پوچھئے ہاں تھر یاد آ گیا۔

بہار جوبن پر آئے توہر طرف ہی سر مستی، ترنگ، چہکار سنائی دیتی ہے، قدرت کے ان حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے تصاویر بناتے میں کہیں کھو گیا۔وہ پنجابی کلام مجھے بھی عشق کی طرف راغب اور میں اس عشق کی وادی میں اپنے محبوب سے ہمکلام

کبھی رنگوں سے کھیلو تم مجھے تصویر کر ڈالو
میں کوئی خواب ہوں شاید اسے تعبیر کر ڈالو
میری سوچیں بھٹکتی ہیں زمانے کی سرائے میں
کبھی ممکن جو ہو تم سے انھیں زنجیر کر ڈالو
میری دنیا تم ہی تک ہے تمھیں کیسے بتاؤں میں
میری ہیر بنو تم ہی مجھے بھی رانجھا کر ڈالو

ٹلہ جوگیاں کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لئے پتھروں پر چل کر آنا پڑتا ہے مگر جب آپ اس جگہ پر پہنچ جاتے ہیں تو قدرت کے حسین مناظرمسافروں کی بھٹکتی ہوئی نظروں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔پہاڑوں کے بارے میں تو ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ جب آپ چوٹی پہ پہنچیں تو قدرت آپکو ایسے مقام پہ فائز کر دیتی ہے کہ ساری دنیا آپکے قدموں میں بچھی دکھائی دیتی ہے۔

خالد بھائی کی آواز نے مجھے اس منظر سے واپس کہ سورج غروب ہونے کا اشارہ دے رہا ہے اور اندھیرا چھانے سے پہلے واپس لوٹنا ضروری ہے۔واپسی کا سفر مشکل تو ہوتا ہے لیکن مسافروں نے جانا تو ہوتا ہے۔واپسی کے سفر پہ شجر کو دیکھتے اشعار یاد آ گئے۔

گاؤں کی پگڈنڈیوں پر پھر نظر رکھے گا کون
راستے کا یہ شجر کبھی بوڑھا۔۔۔۔۔۔۔ہو جائے گا
اک شجر ایسا۔۔۔۔۔۔ محبت کا لگایا جائے
جس کا ھمسائے کہ آنگن میں بھی سایہ جائے

جیسے جیسے آپ اترائی کا سفر آپکو محسوس ہوگا کہ آپ اداس ہونا شروع ھو گئے ہیں ٹلہ ایک پھول ہے جسکی خوشبو آپکو اپنی طرف کھنچتی ہے۔

میں چار جماعتاں کی پڑھیا
میں فتوے لاواں ھر اک تے
کدی بے عملاں تے
کدی بے عقلاں تے
کدی شاعری تے کدی گاؤں تے
کدی ھسن تے کدی رووں تے

جی ہاں عظیم صوفی شاعر وارث شاہ نے اپنی مشہور تصنیف ’’ہیر وارث شاہ’’میں سحر انگیز ٹلہ جوگیاں کا ذکر کیا ہے۔بقول وارث شاہ کے رومانوی داستان‘ہیر رانجھا’کا جو رانجھا تھا اس نے ٹلہ جوگیاں پہ ڈیرے ڈالے ہم بھی رانجھا ہوئے نا ہم نے بھی تو ٹلے پہ ڈیرے ڈالے۔ہم بھی جوگی ہیں عشق کے اور ہمیشہ رہیں گے۔میں عشق کا چولاپہن کے واپس اور میری محبت بھی ان وادیوں میں ہی مکمل ہو گی اور میں اپنی محبت کے ساتھ اس وادی کا سفر کروں گا اور بلھے شاہ/وارث شاہ/حق باہو کو سناؤں گا کہ

‘‘ویکھ بلھیا ویکھ وارثا ویکھ باہو اج اسی عشق نو توڑ چڑھایا ای‘‘

نوٹ ٹلہ جوگیاں ضلع جہلم میں قلعہ روہتاس سے 25 کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے یہ اس سلسلہ کا سب سے اونچا مقام ہے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

  1. لگتا ہے امیر حمزہ نے یہ سفرنامہ گھر بیٹھ کر لکھا ہے کیوںکہ انھوں نے اتنی بڑی اپنی تصویر تو دے دی ہے لیکن ٹیلہ جوگیاں کی کوئی تصویر نہیں ….

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button