ڈومیلیسوہاوہاہم خبریں

سوہاوہ کے علاقہ تتروٹ سے لاکھوں سال پرانے جانوروں کی باقیات دریافت

سوہاوہ: پنجاب یونیورسٹی شعبہ زوالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ماجد خان کے طلباء نے سوہاوہ کے علاقہ ڈومیلی کے گاؤں تتروٹ ریسرچ کے دوران 2 اعشاریہ 5 ملین سال پرانے جانوروں کی باقیات دریافت کی ہیں جن میں گھوڑے، زرافے، ہاتھی، بھیڑ بکریوں (بوویڈی) کے خاندان کے فوسلز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا میں اس وقت بھیڑ بکریوں کے خاندان کی 143 اقسام موجود ہیں جبکہ 300 کے لگ بھگ اس نسل کی اقسام ختم ہو چکی ہیں ان کے اب فوسلز ہی ملتے ہیں۔ بوویڈی فیملی کی زیادہ سے زیادہ 20 ملین سال پرانی باقیات دنیا کے اندر مل چکی ہیں، یہ غول کی شکل میں رہتے تھے۔ اس خطے میں ضلع جہلم کا گاؤں ” تتروٹ ” کسی زمانے میں جانوروں کے رہنے کے لیے بہت اچھا مسکن تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہاں ہر طرف ہریالی ہوتی تھی یہاں جھیل بھی موجود تھی جس کی وجہ سے ان جانوروں کو رہنے سہنے میں مشکل پیش نہیں آتی ہو گی۔ یاد رہے کچھ عرصہ پیشتر یہاں سے ہاتھی کے قابل ذکر دانت بھی دریافت ہو چکے ہیں۔

اس موقع پر چوہدری عابد حسین جو کہ یہاں تتروٹ کے رہنے والے ہیں نے ہمارے نمائندے کو ان دریافتوں کے بارے میں بتایا اور حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ تتروٹ میں فوسلز پارک اور فوسلز میوزیم بنایا جائے تاکہ اس علاقے میں سیاحت کے لیے وزیراعظم صاحب کی جو کوشش ہے، ٹلہ نیشنل پارک جیسے اچھے منصوبے، اس کو چار چاند لگ سکتے ہیں لوگوں کو سیاحت کی غرض سے یہاں آنے کے لئے راغب کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر چوہدری عابد حسین نے کہا کہ ہمارے علاقے میں سڑکوں کے بہت زیادہ مسائل در پیش تھے وہ حل ہونے جا رہے ہیں، میں شکریہ ادا کرتا ہوں،ایم این اے چوہدری فرخ الطاف اور ایم پی اے یاور کمال کا جن کی کوششوں سے بہت جلد سڑک کا کام شروع ہو رہا ہے جس سے نہ صرف مقامی لوگوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات کے لیے بھی آمدورفت میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور اب یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں امن کے بعد دنیا بھر کے سائنسدانوں کا اس خطے خصوصاً پاکستان میں تعلیمی ریسرچ اور سیرو سیاحت کے لئے ہمارے علاقے میں جو آنا جانا تھا وہ اب دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button