بوڑھے ریاض سلیمی کے جوان بیٹے کا امریکہ میں قتل

تحریر: محمد امجد بٹ

0

استاد ریاض سلیمی صاحب سے تعلق زمانہ طالب علمی سے ہے وہ آجکل امریکہ میں مقیم ہیں گزشتہ دنوں انکے جواں سال بیٹے نعمان سلیمی کی موت کی خبر سنی جس کے مطابق نعمان سلیمی کو قتل کیا گیاتوخیال آیاکہ آج کے بعد دیار غیر میں ریاض سلیمی کوئی اور ریاض سلیمی ہوگا۔یہ دکھ ناقابلِ بیان ہے۔والدین کیلئے ایک ایسی قیامت ہے جوو عمر بھر گزرتی ہی نہیں۔یاد کی کپکپاتی لو بجھنے کا نام ہی نہیں لیتی۔بے شک جوانی کی موت بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے۔اِس سفاک خبر نے اپنے بھی کئی زخم تازہ کر دئیے ہیں۔مجھ سمیت میرے وہ احباب جو اس وقت میرے ساتھ اٹلی میں موجود ہیں کے لیے بھی یہ خبر ایک سانحہ ہے۔

دُنیا کی روایت اور رِیت ہے کہ اولاد اپنے والدین کے جنازے اُٹھاتی ہے لیکن اولاد کا جنازہ اُٹھانا کِس قدر مُشکل ہے اِس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔ عام اِنسانوں کا تو ذِکر ہی کیا اِس مشکل مرحلہ پر تو نبیوں کی بھی چیخیں نکل گئیں … نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہِ وَسلم کے صاحبزادے ابراہیمؓ بیمار تھے۔ مسجد نبوی میں کِسی نے آ کر بتایا کہ بیٹے کی حالت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ نبی اکرم کہ آپﷺ کی چال خُرام بلکہ مخرام کے حوالے سے مشہور تھی کہتے ہیں کہ باقاعدہ بھاگتے ہوئے گھر پہنچے۔ لگتا تھا کہ بیٹے کو باپ کا ہی انتظار تھا سو آپﷺ پہنچے تو ابراہیمؓ نے آپﷺ کے زانو پر آخری ہچکی لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہِ وآلہِ وَسلم کے آنسو نکل آئے، کِسی نے کہا یا رسولﷺ اللہ! آپ بھی روتے ہیں۔ فرمایا میں اللہ کا نبیﷺ بھی ہوں اور ایک باپ بھی…

روایات میں ہے کہ اِس موقع پر آپ کی رنجیدگی دیکھنے والی تھی۔ نمازِ جنازہ خود پڑھائی لیکن تدفین کے لئے قبر میں نہیں اُترے حالانکہ کِسی بھی مُسلمان کی موت کی صورت میں اُس کو لَحد میں اُتارنا آپﷺ کا معمول تھا… قبر کے کنارے بیٹھے تھے فرمانے لگے۔ ”ابراہیمؓ! بڑا دُکھ دے کر جا رہے ہو۔ تمہیں پتہ تھا کہ تُمہارا باپ بوڑھا ہے اس کا بھی خیال نہیں کیا… چلو کوئی بات نہیں تم پہنچو میں بھی تمہارے پیچھے پیچھے ہی آ رہا ہوں۔’’سو ایسا ہی ہوا اور آپﷺ اپنے بیٹے کے پیچھے پیچھے ہی اپنے رب سے جا ملے۔

جوان بیٹے کا لاشہ اٹھانا، یہ دکھ کیا ہے، اسے کوئی نہیں جان سکتا، خدا دشمن کو بھی ایسا اندازہ نہ کروائے۔ روایات میں ہے کہ امام علیہ السلام کی کمر میں خم آ گیا تھا جب انہوں نے اٹھارہ سالہ علی اکبر کا جسم مبارک اٹھا کر کاندھے پر رکھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان مبارک ہے ”صبر کی توفیق مصیبت کے برابر ملتی ہے۔ اور جس نے اپنی مصیبت کے وقت ران پر ہاتھ مارا اس کا کیا دھرا اکارت گیا”۔

انسان جب عظیم ترین صدمہ سے دوچار ہو اور اس قیامت کی گھڑی اسے صبر نصیب ہو جائے تو اس میں انسان کا کمال نہیں بلکہ خالق حقیقی کا کرم ہے کہ اس نے بندے کو بروقت سنبھال لیا۔ موقع پر صبر عطا فرما دیا اور اس کی زبان اور عمل سے ایسا کوئی فعل سرزد نہیں ہونے دیا جو خالق کو ناپسند ہو۔ انسان صدمہ میں نیم دیوانہ ہو تا ہے۔ بڑے مضبوط اعصاب کے مالک مرد بھی ہوش و ہواس کھو دیتے ہیں۔

وہ عظیم ترین صدمہ کیا ہو سکتا ہے؟ والدین کی وفات؟ بہن بھائی کا انتقال؟ بیوی یا شوہر کی موت؟ بلا شبہ ہر رشتہ عزیز ترین ہے۔ ناگہانی موت ہو یا بڑھاپے کی موت۔ زندگی کا طویل ساتھ چھٹ جانا عظیم صدمہ ہے۔ لیکن عظیم ترین صدمہ اولاد کی میت اٹھانا ہے۔ پھر نہ باپ میں وہ توانائی باقی رہتی ہے اور نہ ماں میں زندگی رہتی ہے۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے نہ والدین کو آزمائش فرمایا نہ بہن بھائی یا شوہر اور بیوی کو آزمائش قرار دیا۔

اللہ سبحان تعالیٰ نے اولاد کو آزمائش فرمایا۔ مال اور اولاد کو آزمائش قرار دیا۔ مال بھی اولاد کے لئے جمع کیا جاتا ہے اور خرچ بھی اولاد پر کیا جاتا ہے۔ مال چلا جائے تو بندہ مرتا نہیں کہ مال آنی جانی شے ہے لیکن اولاد چلی جائے تو بندہ نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے۔ اپنا آپ بیچ کر بھی اس نقصان کی وصولی ممکن نہیں۔ کربناک اذیتناک المناک آزمائش بیٹی یا بیٹے کی موت کی خبر ہے۔ اس خبر پر فوری صبر اللہ سبحان تعالیٰ کا خاص فضل ہوتا ہے۔ ورنہ وقت کے ساتھ صبر آ ہی جاتا ہے اور صبر کے سوا چارہ بھی کیا ہے۔

پرانی کہاوت ہے کہ ’’دنیا کا سب سے بڑا بوجھ بوڑھے باپ کے کاندھے پر جوان بیٹے کا جنازہ ہوتا ہے۔‘‘ظاہر ہے جس شخص نے اپنے جواں سال بیٹے کی دردناک موت کا غم برداشت کیا ہو اس کے صبر وضبط کو آپ لفظوںمیں بیان نہیں کرسکتے۔ اس پہاڑ جیسے غم کو برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ وہی شخص دکھا سکتا ہے جو غیر معمولی ہمت اور عقل وشعور کا انسان ہو۔ورنہ عام حالات میں ایسے موقع پر انسان کا دل پھٹ جاتا ہے اور وہ اپنا آپا کھوبیٹھتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ریاض سلیمی صاحب سمیت انکے اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطافرمائے اور نعمان سلیمی کے درجات بلند فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،ہم سب ریاض سلیمی صاحب کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.