چک نظام پل کی تعمیر مسئلہ شدت اختیار کر گیا؛ پل کو اصل مقام پر تعمیر کیا جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

0

پنڈدادنخان: چک نظام پل کی تعمیر مسئلہ شدت اختیار کر گیا، پل کو اصل مقام پر تعمیر کیا جائے، ہزاروں ایکڑ اراضی تباہ ہو جائے گی، سینکڑوں افراد کا روز گار ختم ہو جائے گا، ضلع منڈی بہاؤالدین تحصیل ملکوال کی سیاسی اور سرکاری شخصیات نے مالی و سیاسی فائدے کے لیے پل کا ڈائزین تبدیل کروایا دریائے جہلم کے رخ کو تبدیل کیا جا رہا ہے آٹھ سے زیادہ دیہات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے، پل چک نظام کے مقام پر تعمیر کی جائے کسی اور جگہ پر پل کی تعمیر اہل علاقہ کو منظور نہیں ہے سیاسی قیادت مسئلے کی حساسیت کو سمجھے اگر مسئلہ پر امن طور پر حل نہ ہوا تو بھر پور احتجاج کیا جائے گا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران مشترکہ اعلامیہ پیش۔

تفصیلات کے مطابق چک نظام پل چک نظام پل کی تعمیر مسئلہ شدت اختیار کر گیا اس سلسلے کا پہلا با ضابطہ اجلاس گزشتہ روز فتح آباد کے مقام پر ہوا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی جہاں پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے راجہ ارشد چوہدری خالد راجہ حسیب راجہ محمد خان چوہدری ناصر چوہدری خضر بھون چوہدری سوہندہ خان ایڈووکیٹ سید اسد بخاری چوہدری اختر آرائیں نیئر اعوان راجہ ندیم راجہ حسن جالپ چوہدری بلال نذر گوندل ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔

مقررین نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اور مقامی سیاست دان مسئلے کی حساسیت کو سمجھے اگر مسئلہ پر امن طور پر حل نہ ہوا تو ہم اہل علاقہ بھرپور احتجاج کریں گے تحصیل ملکوال کی سیاسی اور سرکاری شخصیات نے مالی و سیاسی فائدے کے لیے پل کا ڈائزین تبدیل کروایا جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں پل دریا پر بنانے کی بجائے خشکی کو دریا بنا کر تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے سات ہزار ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو جائے گی اور سینکڑوں لوگ بے روز گار ہو جائیں گے اور آٹھ سے زیادہ گاوں مکمل ختم ہو جائیں گے اجلاس کے بعد متفقہ طور پر اعلامیہ جاری کیا گیا کہ پل کو چک نظام کے مقام پر تعمیر کیا جائے کسی اور جگہ پر تعمیر نا منظور ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں چک نظام پل کی تعمیر کے لیے پی سی ون منظور ہو چکا تھا جس کے مطابق پل کو چک نظام ہرن پور کے مقام پر دو ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جانا تھا مگر سابقہ حکومتی شخصیات جن کا تعلق ملکوال سے تھا انھوں نے سیاسی اور مالی فائدے کے لیے پل کے مقام کو تبدیل کروایا گیا آج بھی اس پل کا نام چک نظام پل ہے مگر یہ پل چک نظام سے پانچ کلومیٹر دور ادووال کے مقام پر بنایا جا رہا ہے اور اس کا تخمینہ لاگت بھی چار ارب روپے سے بھی بڑھ گیا ہے اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی ہونے کا خطرہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.