جہلم

سپریم کورٹ کی طرف سے بلدیاتی ادارے بحال کرنے پر محکمہ بلدیات کے افسران و ملازمین میں کھلبلی مچ گئی

جہلم: سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے بلدیاتی ادارے بحال کرنے پر محکمہ بلدیات کے افسران و ملازمین میں کھلبلی مچ گئی جبکہ حکومت پنجاب کی طرف سے کوئی نوٹیفکیشن یا سرکلر جاری نہ ہو سکا۔

انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب کی طرف سے نیا بلدیاتی ایکٹ نافذ کرتے ہوئے بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ تبدیل کرتے ہوئے پہلے مرحلہ میں صوبہ بھر کی ضلع کونسلزکو ختم کر دیا گیاتھااور اس کے بعد بڑے اضلاع کو میٹرو پولیٹن کا درجہ دیتے ہوئے ٹاؤن کمیٹیاں ، تحصیل کونسلز ترتیب دیتے ہوئے انکے حدود راربع بھی بنا دیئے۔

ان پر نئی نیبر ہڈ اور پنجاب ویلج کونسلز کے تحت حد بندیاں کر دی گئی اور اس حوالے سے سابق یونین کونسلز کو ختم کر دیا گیااور ضلع کونسل ، ٹاؤنز کے سٹاف اور افسران کے تقرر و تبادلے کر دیئے گئے اس کے ساتھ ساتھ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ، میونسپل کارپوریشن، تحصیل کونسل اور ٹاؤن کمیٹیوں کے اثاثہ جات بھی انکے حوالے کر دیئے گئے تھے۔

نیابلدیاتی نظام لانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں تاہم سپریم کورٹ کی طرف سے سابقہ بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کے احکامات پر سرکاری افسران و ملازمین سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں ، اگر پرانا نظام بحال ہوا تو سرکاری افسران و ملازمین اور ضلع کونسل میونسپل کارپوریشن ، بلدیہ کے اثاثوں کو دوبارہ واپس کرنا ہوگا، افسران اور ملازمین کی دوبارہ تقرریاں بھی کی جائیں گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button