جہلم

ہوا میں نمی کی کمی، ہونٹ پھٹنے، نکسیر پھوٹنے کی وباپھیل گئی، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت

جہلم: ہوا میں نمی کی کمی ،ہونٹ پھٹنے ، نکسیر پھوٹنے کی وباپھیل گئی ، خطرناک نہیں ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے ، ، بچوں میں وباء زیادہ پھیل رہی ہے ، کورونا سے جوڑنا درست نہیں۔

تفصیلات کے مطابق ہوا میں نمی کی کمی کے باعث شہریوں میں ہونٹ پھٹنے ، کھانسی ، ناک سے خون اور سانس لینے میں رکاوٹ جیسے واقعات میں اضافہ ہورہاہے ، جس پر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے ، تاہم طبی ماہرین کے مطابق یہ وبا زیادہ خطرناک نہیں ، اور اس کو کورونا وائرس کی تیسری لہر کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں۔

اس حوالے سے اے ایم ایس ڈاکٹر شعیب کیانی کا کہنا تھا کہ ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے کے باعث ہر سال ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن اس بار لوگ کورونا وائر س کی وباء کی وجہ سے زیادہ سیریس لے رہے ہیں ، ہونٹ پھٹنے کے واقعات جہلم میں زیادہ نہیں ہیں بلکہ جنوبی پنجاب، کوئٹہ اور پشاور میں خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہوا میں نمی کم ہونے کے باعث جب خشک ہوا گلے میں جاتی ہے تو کھانسی اور سانس کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے ، جبکہ گرم اور خشک ہوا ناک میں جاتی ہے تو وہاں موجود رطوبتیں جمع ہوجاتی ہیں جو بعد ازاں ناک سے خون آنے کا باعث بنتی ہیں بچوں میں یہ وباء قدرے زیادہ پھیل رہی ہے ، بچوں کو ناک میں انگلی ڈالنے سے روکیں کیونکہ ہوا میں نمی کم ہونے کے باعث جمنے والی رطبتیں انگلی کیوجہ سے اکھڑ جاتی ہیں جو خون نکلنے یعینی نکسیر پھوٹنے کا باعث بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر بچوں کو نیزل ڈراپس دیں اور گلا خشک نہ ہونے دیں ، بڑے افراد زیادہ سے زیادہ پانی پئیں ، کپڑے والا ماسک گیلا کرکے پہنیں، گھروں میں پانی ابالنے کے لئے رکھیں تاکہ ہوا میں کچھ نمی لائی جا سکے ، اس کے علاوہ گھروں کے باہر پانی کا چھڑکاؤ کرتے رہیں ، دن میں کم از کم دس بار ناک میں پانی ڈالیں تاکہ ناک میں خشکی کو دور کیا جا سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button