جہلم

محکمہ تعلیم میں الٹی گنگا بہنے لگی، خواتین افسران کی موجودگی کے باوجود گرلز سکولوں کی چیکنگ مرد اسٹاف نے شروع کر دی

جہلم: محکمہ تعلیم میں الٹی گنگا بہنے لگی ، خواتین افسران کی موجودگی کے باوجود گرلز سکولوں کی چیکنگ مرد اسٹاف نے شروع کر دی ، بچیوں کے والدین میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران نے خواتین افسران کی موجودگی کے باوجود گرلز سکولوں کی چیکنگ کی ذمہ داریاں خود سے سنبھال رکھی ہیں جس کیوجہ سے سکولوں میں زیر تعلیم بچیوں کے والدین نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف ایگزیکٹو و آفیسر محکمہ تعلیم آج بھی 70 کی دہائی کے قوانین پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ چاروں تحصیلوں میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرزنانہ کی موجودگی کے باوجود میل افسران کو گرلز سکولوں کی چیکنگ و مانیٹرنگ کی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں جو کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں سوالیہ نشان ہے ۔

زیر تعلیم بچیوں کے والدین نے وزیراعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب، وزیر اتعلیم ، کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع جہلم میں نافذ جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے گرلز سکولوں کی مانیٹرنگ و چیکنگ کی ذمہ داریاں خواتین افسران کو سونپیں جائیں تاکہ بچیوں اور اساتذہ کی عزت نفس مجروح ہونے سے بچ سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button