دینہاہم خبریں

ضلع جہلم کا سیاسی منظر نامہ بڑی تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہو گیا

دینہ: ضلع جہلم کی دو قومی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 2018 کے عام انتخابات میں نتیجہ متوازن آیا تھا، پی ٹی آئی 2 قومی اور 2 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پرکامیاب ہوئی جبکہ 1 نشست پر مسلم لیگ( ن) کے صوبائی امیدوار نے کامیابی حاصل کی ۔

اڑھائی سال کے عرصے میں عام انتخابات کے اتحادی اب ایک دوسرے سے علیحدہ ہو چکے ہیں ، جس کے نتیجے میں ضلع جہلم کا سیاسی منظر نامہ بڑی تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت نے ضلع جہلم میں تنظیمی معاملات میں ضلعی ، تحصیل ، یونین کونسلوں میں ہزاروںنوجوانوں کو ایڈجسٹ کر کے اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنالیا ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) صرف میاں نواز شریف کے مضبوط ووٹ بنک پر چل رہی ہے ، مگر مسلم لیگ ن کے قائدین میں باہمی رابطوں اور یکجہتی کا فقدان نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ق ، پاکستان تحریک لبیک ، جماعت اسلامی ، پاکستان عوامی تحریک کے کارکن تو موجود ہیں لیکن قیادت کا فقدان ہے جس کیوجہ سے کارکنان دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاملات طے کرکے حمایت کا اعلان کر دیتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ضلع جہلم کے حلقہ این اے 67 میں جلالپور کندوال نہر کامنصوبہ تیزی کے ساتھ جاری ہے جبکہ لِلہ انٹر چینج تا جہلم 2 رویہ سڑک ہرن پورتا دینہ سوئی گیس پائپ لائن ، پتن گٹالیاں قلعہ روہتاس تا ٹلہ جوگیاں سڑک میڈیکل کالج ، ٹیچنگ ہسپتال ، ہرن پور چک نظام پل کی تعمیر سمیت اہم منصوبے آج بھی التواء کا شکار ہیں۔

عام انتخابات سے قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان نے انتخابی جلسوں کے مواقعوں پر ضلع جہلم کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کروائی ، اڑھائی سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود شہریوں کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں ۔

شہریوں نے منتخب ممبران سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان منصوبوں سمیت شہریوں کے دیگر مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو ضلع جہلم کے شہری آمدہ عام انتخابات کے موقع پر اہلیت کے حامل امیدواروں کی کامیابی کے لئے کردار ادا کریں گے تاکہ ضلع جہلم کے شہریوں کے مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button