جہلم میں زیر زمین پانی مضر صحت اور غیرمعیاری ہونے سے شہری مختلف خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے

0

جہلم: شہر کے متعدد علاقوں کا زیر زمین پانی مضر صحت اور غیرمعیاری ہونے سے شہری مختلف خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے، ، شہر کے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے فلٹر بھی عرصہ دراز سے تبدیل نہیں کئے جارہے ، شہر ی سراپا حتجاج ، شہر اور ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں اور قصبات میں فلٹریشن پلاٹنس کی تنصیب کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کی گنجان آبادیوں پروفیسر کالونی، جادہ، کالاگجراں، کشمیر کالونی، بلال ٹاؤن، مجاہدہ آباد، اسلام پورہ، کریم پورہ، عباس پورہ، روہتاس روڈ، مدینہ ٹاؤن ، کشمیر کالونی، اور دیگر آبادیوں میں سالہا سال پرانی بوسیدہ واٹر سپلائی پائپ لائنیں شکستہ ہونے سے زیر زمین سیوریج کا پانی ان لائینوں میں شامل ہورہا ہے اور اس پینے کے پانی کو مختلف لیبارٹریوں نے بھی مضر صحت قرار دے رکھا ہے جس کیوجہ سے ہیپاٹائٹس پھیلنے میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ان آبادیوں میں ہر چوتھا شخص ان جان لیوا امراض میں مبتلا ہورہا ہے غریب اور محنت کش طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا مریض مہنگا علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور ہر ماہ ان آبادیوں میں درجنوں افراد کالے یر قان کا شکار ہو کرموت کی وادی میں جا رہے ہیں اور سینکڑوں افراد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہو کر زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔

اس افسوسناک صورتحال کے متعلق متعدد بار ضلعی انتظامیہ ،تحصیل انتظامیہ اور منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی توجہ مبذول کروائی ہے لیکن اربا ب اختیار کی بے حسی اور چشم پوشی کی وجہ سے اب تک نجانے کتنے لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ جہلم شہر کے بیشتر علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کے فلٹر بھی عرصہ درازسے تبدیل نہیں ہوئے جس کے باعث پینے کا یہ پانی مضر صحت ہورہا ہے جس کے استعمال سے شہری موذی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

شہری ،سماجی،مذہبی،کاروباری تنظیموں کے عمائدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی ڈپٹی کمشنر جہلم سے صورتحال پر قابو پانے کیلئے عملی اقدامات کرنے اور واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کروانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.