جہلم

ضلع جہلم میں جدید دور میں بھی پرانے دور کی روایات ڈھول پرلڈی ڈالنے کا رواج برقرار

جہلم: ضلع بھر میں جدید دور میں بھی پرانے دور کی روایات ڈھول پرلڈی ڈالنے کا رواج برقرار ہے۔
شادی بیاہ کی تقریبات کے موقع پر بینڈ باجوں سمیت ڈھولچیوں کو مدعو کیا جاتا ہے اور خوشیوں بھرے لمحات کو دوست احباب ڈھول کی تھاپ پر لڈی ڈال کر یاد گار بناتے ہوئے پیشہ ور ڈھولچی اپنے ڈھولوں کو خوبصورت انداز میں سجا کر تقریبات میں لاتے ہیں اور اپنے مخصوص انداز میں ڈھول بجا کر تقریبات میں شریک افراد کو اپنے فن سے محظوظ کرتے ہیں۔
اکثر دیہاتوں میں آج بھی مختلف علاقوں سے پیشہ ور ڈھولچیوں کو مدعوکیا جاتا ہے اور علاقے کے لوگوں کو تفریح کا موقع فراہم کرنے کے لئے میلے جیسا سماں باندھ کر ڈھول کی تھاپ پر رسمی لڈی ڈالی جاتی ہے ، جس تقریب میں ڈھول کی تھاپ پر لڈی ڈالنے کی آواز گونجتی ہے ،تو آس پاس کے دیہاتوں سے بھی بچے بوڑھے نوجوان اس ڈھول میلے کو دیکھنے جوق در جوق محظوظ ہونے پہنچ جاتے ہیں۔
دیہاتوں کے نوجوان اس عارضی میلے میں اپنے مخصوص انداز میں ڈھول کی تھاپ پر لڈیاں ڈالتے دکھائی دیتے ہیں اور شرکاء سے خوب داد وصول کرتے ہیں ، پیشہ وار ڈھولچی اپنے ڈھول کی تھاپ اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ نوجوانوں اور بچوں میں لڈی ڈالنے کا جذبہ خود بخود اُمڈآتا ہے جو ان کی خوشی کے لمحات سے نہ صرف خود محظوظ ہوتے ہیں بلکہ دیکھنے والوں کو بھی محظوظ کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈھول پر لڈی ڈالنے کی روایت برسوں پرانی ہے ، مگر آج بھی اس جدید دور میں شادی بیاہ و میلوں ٹھیلوں کے مواقعوں پر ڈھول کی تھاپ کی گونج سنائی دیتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button