جہلم

عیدالفطر کی آمد آمد، فیملی کورٹس میں روٹھے والدین کی بچوں کے ساتھ ملاقاتیں، ماحول سوگوار

جہلم: عید الفطر کی آمد آمد، فیملی ججز کے احکامات پر ضلع کچہری اور جوڈیشل کمپلیکس میں طلاق شدہ جوڑوں ، خانگی مسائل کے باعث طلاق کے کیسوں میں بچوں سے محروم والدین کی عید الفطر کی خوشیوں کے باعث جدا کئے گئے کمسن بچوں اور بچیوں سے عید ملاقاتیں کرائی گئیں۔

اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے ، بچوں کی اکثریت خانگی جھگڑوں کے بعد والد کی بجائے ماؤں کے پاس تھی جبکہ جھگڑوں کے بعد دوسری شادیاں کرنے والی خواتین کے بچے دادیوں کے پاس ہیں ، ان میں نومولود سے لیکر 14 سال کے بچے اور بچیاں شامل تھیں ، یہ عید ملاقاتیں 3 گھنٹوں کے لئے کرائی گئیں ، اس مقصد کے لئے خصوصی رومز بھی کھولے گئے۔

والد اپنے بچوں اور بچیوں کے لئے عیدی بھی لائے والدین نے کھلونے ، ریڈی میڈ گارمنٹس ، شوز ، چشمے ، گھڑیاں رنگ برنگے ماسک ، چوڑیاں ، مہندی نئے موبائل ، لیپ ٹاپ ،سائیکلز، مشروبات ، جوسسز، فروٹ بھی ساتھ لائے والدین نے اپنے بچوں کو 5 سے 10 ہزار روپے تک عیدی بھی دی ، بعض والدین ایک سال بعد اپنے بچوں سے ملاقات کر رہے تھے تمام والدین کی آنکھوں میں آنسوؤں کی برسات تھی ، ٹپکتے آنسوؤں کے ساتھ وہ بچوں کو دیوانہ وار چومتے دکھائی دیئے۔

چھوٹے بچوں کو اٹھا کر گودی میں بٹھائے رکھا جو مائیں شادیوں کے بعد بچوں سے محروم تھیں وہ بھی اپنے ساتھ مشروب ، کھلونے ، نقدی عیدی لائیں ، پاگلوں کی طرح اپنے بچھڑے ان بچوں سے چمٹ کر طویل دورانئے تک روتی دکھائی دی گئیں اور دیوانہ وار ان کے بوسہ کنار لیتی رہیں ، فیملی ججز کے خصوصی احکامات پروالدین سے ان بچھڑے بچوں سے ملاقاتیں صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک جاری رہیں۔

والدین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اہلیہ کے ساتھ طلاق کے بعد چھوٹے تینوں بچے ماں کو مل گئے تھے ہر سال عید سے قبل ان سے ملاقات ہوتی ہے ، جس پر ہم بہت خوشی محسوس کرتے ہیں مگر ان خانگی جھگڑوں پر اب بہت زیادہ پچھتاوا بھی ہے مگر اب وقت گزر چکا جو اب واپس نہیں آسکتا جھگڑوں کا یہ ملال زندگی بھر یاد رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری طلاق کیوں ہوئی یہ معاملہ اب قصہ پارینہ بن چکا ہے ، بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ اور خرچہ بھی ادا کرتے ہیں اب سابقہ بیوی سے کوئی غرض نہیں جبکہ چھوٹے ننھے بچوں ، بچیوں کا کہنا تھا کہ آج بہت خوش ہیں ، پاپا ہمارے لئے بہت زیادہ اشیاء لائے، ہزاروں روپے عیدی بھی ملی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button